داغ دہلوی اور امیر مینائی کے مزارات کی خستہ حالی- متعلقہ حکام فوری توجہ دیں،امیر مینائی میموریل سوسائٹی کی افتتاحی تقریب
نور الحق قادری نے امیر مینائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امیر مینائی متعدد کتابوں کے مصنف تھے ان کی موجودہ تصانیف میں دو تصانیف عاشقان دیوان مرات الغیب اور صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محامد خاتم النبین ہے اور دو مثنویاں نور تجلی اور ابر کرم بھی قابل ذکر ہیں مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق کی نسبت کی وجہ سے وہ مینائی کہلائے طب، جفر اور علم نجوم سے وہ بہت اچھی طرح واقف تھے۔
حیدرآباد: امیر مینائی میموریل سوسائٹی حیدرآباد کی افتتاحی تقریب اور تہنیتی مشاعرہ خواجہ شوق ہال اردو مسکن خلوت حیدرآباد میں منعقد ہوا اس عظیم الشان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب سید شاہ نور الحق قادری ایڈوکیٹ صدر نشین اردو اکیڈمی آندھرا پردیش( متحدہ) نے امیر مینائی کے نام سے یادگار سوسائٹی قائم کرنے پر جناب سید مسکین احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جناب سید مسکین کا یہ اقدام قابل تحسین اوراردو والوں کے لیے قابل تقلید ہے۔
آج جب کہ نوجوان نسل اردو سے کافی دور ہوتی جا رہی ہے نوجوان نسل کو اردو سے قریب کرنے اور شعرا سے واقف کروانے کی اشد ضرورت ہے جناب سید نور الحق قادری نے کہا کہ جناب امیر مینائی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے امیر مینائی کو زبان و بیان پر بے حد قدرت تھی وہ ایک بلند مرتبہ اور عظیم شاعر تھے اور یہ بات بھی مشہور تھی کہ امیر مینائی غزل کے لیے اور غزل ان کے لیے بنی تھی صنف غزل میں ان کو جو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ بہت کم شعراء کے حصے میں آئی ہے ۔
امیر مینائی کو اردو اور فارسی زبان پر بے پناہ قدرت حاصل تھی اس کی مثال بہت ہی کم شعراء کے ہاں ملتی ہے ان کی شاعرانہ قدر و منزلت اور علمی قابلیت کو اس اس دور کے سبھی نامی گرامی شعرا نے بھی بخوبی تسلیم کیا ہے امیر مینائی 21 فروری 1828 کو شاہ نصیر الدین شاہد نواب اود ھ کے عہد میں لکھنو میں پیدا ہوئے 72 سال کی عمر میں 13 اکتوبر 1900 میں یعنی 125 سال قبل حیدراباد دکن میں وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
جناب نور الحق قادری نے امیر مینائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امیر مینائی متعدد کتابوں کے مصنف تھے ان کی موجودہ تصانیف میں دو تصانیف عاشقان دیوان مرات الغیب اور صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محامد خاتم النبین ہے اور دو مثنویاں نور تجلی اور ابر کرم بھی قابل ذکر ہیں مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق کی نسبت کی وجہ سے وہ مینائی کہلائے طب، جفر اور علم نجوم سے وہ بہت اچھی طرح واقف تھے۔
امیر مینائی کو شعر و سخن کا بھی بچپن ہی سے شوق تھا 187 عیسوی کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے نواب یوسف علی خان والی رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خان نے انہیں اپنا استاد مقرر کیا رام پور میں 63 برس گزارنے کے بعد حیدرآباد دکن منتقل ہوئےتھے کہ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے جناب نور الحق قادری نے کہا کہ جناب سید مسکین احمد اردو کے حقیقی اور سچے ہمدرد ہیں وہ عہد قدیم کے نامور شعراء کی یاد میں جلسے اور مشاعر منعقد کرتے ہیں جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
جناب نور الحق قادری نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ خواہ کسی زبان میں تعلیم حاصل کریں لیکن اپنی مادری زبان اردو پڑھ کو فراموش نہ کریں گھروں اور اپنی نجی محفلوں میں زیادہ سے زیادہ اردو الفاظ کا استعمال کریں جناب سید مسکین احمد نگران جلسہ نے کہا کہ امیر مینائی میموریل سوسائٹی حیدرآباد کے قیام سے متعلق جناب نور الحق قادری ایڈ وکیٹ کےاظہار خیال،نیک تمنائیں اور حوصلہ افزائی پر اظہار ممنونیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ہمیشہ سے اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج اور اشاعت رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ داغ دہلوی اور امیر مینائی کے مزارات حیدرآباد میں قائم ہیں لیکن ان مزارات کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اب ان مزارات کی داغ دوزی اور تزیئن نو ضروری ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں واقع ان دو عظیم الشان شعرا کے مزارات اردو والوں کے لیے لمحہ فکر ہیں انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ دونوں مزارات درج اوقاف ہیں اس لیے سرکاری طور پر ان مزارات کی تزیئن نو کا کام ہونا چاہیے اس میں کسی قسم کی تاخیر اردو والوں میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب ہوگی۔
جناب سید مسکین احمد نے اردو والوں پر زور دیا کہ وہ اردو کے فروغ کے لیے اپنے اوقات میں سے کچھ وقت مختص کریں اور شعراء کرام کی ہر ممکن پذیرائی کریں بعد از جناب سید مسکین احمد کی نگرانی میں شاندار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر فاروق شکیل، شاہد عدیلی، سردار سلیم، پروفیسر مسعود احمد،انجنی کمار گوئل ،افتخار عابد، عزیز اثر، فرید سحر، تجمل گل ریز نے اپنا کلام سنایا شاہد عدیلی نے اپنی خوبصورت نظامت سے شعری محفل میں خوبصورت سماں پیدا کر دیا ابتدا میں جناب شیخ نعیم نے خیر مقدم کیا اور انہی کے شکریہ پر اس یادگار جلسے کا اختتام عمل میں آیا