حیدرآباد

حیدرآباد میں اسپرم سیمپل کے نام پر گندا دھندہ بے نقاب! ’اسپرم ٹیک‘ کا پردہ فاش

پڑوسی دکان کے مالک دیواکر نے میڈیا کو بتایا کہ پنکج پٹیل نے اس مرکز کے لیے تمام ضروری قانونی اجازت نامے حاصل کیے تھے، مگر موجودہ انکشافات کے بعد ادارے کی نیت اور سرگرمیوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے علاقہ گوپالا پورم میں واقع ایک مشتبہ طبی ادارے "انڈین اسپرم ٹیک” پر پولیس نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا۔ اطلاعات کے مطابق یہ ادارہ گزشتہ دو ماہ سے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے، جس کے بعد مقامی پولیس نے یہ قدم اٹھایا۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

گوپالا پورم پولیس نے ادارے کے مالک پنکج پٹیل اور ایک مینیجر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ کلوز ٹیم کی مدد سے اِس جگہ سے کچھ اہم شواہد بھی اکھٹے کئے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے وہ تمام دستاویزات ضبط کر لی ہیں جن میں اسپرم اور انڈے فراہم کرنے والے افراد کی تفصیلات درج تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں علاقہ کے عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ یہاں بلڈ سیمپل کلیکشن کیا جاتا ہے، تاہم اندرونی صورتحال کچھ اور ہی نکلی۔

عینی شاہدین کے مطابق ادارے میں آٹھ نرسیں اور چار دیگر ملازمین کام کر رہے تھے، جو مختلف افراد سے اسپرم سیمپلز حاصل کرتے تھے۔ رپورٹس کے مطابق پہلی بار آنے والے افراد کو پانچ سو روپے جبکہ دوسری بار آنے والوں کو چھ سو روپے دیے جاتے تھے۔ حاصل کردہ سیمپلز کو محفوظ کیا جاتا اور 48 گھنٹوں کے اندر اُنہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا جاتا۔

پڑوسی دکان کے مالک دیواکر نے میڈیا کو بتایا کہ پنکج پٹیل نے اس مرکز کے لیے تمام ضروری قانونی اجازت نامے حاصل کیے تھے، مگر موجودہ انکشافات کے بعد ادارے کی نیت اور سرگرمیوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے اور جلد ہی مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔