تلنگانہ

تلنگانہ کے ضلع محبوب آباد میں پریشان حال کسانوں نے 1200 کلو ٹماٹر مفت تقسیم کردیئے

مارکٹ میں ٹماٹر کا کوئی خریدار نہ ہونے اور اقل ترین امدادی قیمت بھی نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کا صبر جواب دے گیا۔ اپنی محنت کی کمائی کو کوڑیوں کے مول بکتا دیکھ کر کسانوں نے ایک انوکھا احتجاج کرتے ہوئے پوری ٹرالی بھر کر ٹماٹر صارفین میں مفت تقسیم کر دیئے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع محبوب آباد میں ٹماٹر پیدا کرنے والے کسانوں کی حالت زار انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
محبوب آباد میں کمسن لڑکے کا اغواء وقتل، مجرم کو سزائے موت
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی
نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم

مارکٹ میں ٹماٹر کا کوئی خریدار نہ ہونے اور اقل ترین امدادی قیمت بھی نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کا صبر جواب دے گیا۔ اپنی محنت کی کمائی کو کوڑیوں کے مول بکتا دیکھ کر کسانوں نے ایک انوکھا احتجاج کرتے ہوئے پوری ٹرالی بھر کر ٹماٹر صارفین میں مفت تقسیم کر دیئے۔


یہ واقعہ محبوب آباد ضلع کے علاقہ کوتہ گوڑہ میں ہفتہ وار بازار کے دوران پیش آیا۔ گڈور منڈل کے گاؤں بھوپتی پیٹ سے تعلق رکھنے والے کسانوں ساریا، موہن اور سریندر نے اپنی پیداوارفروخت کرنے کے لئے لائی تھی تاہم مارکٹ میں ٹماٹر کی قیمت گر کر 2 روپے فی کلو سے بھی کم ہو گئی جس سے کسانوں کو اپنی لاگت نکالنا تو دور، ٹرانسپورٹ کا خرچہ اٹھانا بھی ناممکن ہو گیا۔


انتہائی مایوسی کے عالم میں کسانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ ٹماٹر واپس گھر لے جانے یا سڑک پر پھینکنے کے بجائے لوگوں میں مفت بانٹ دیں گے۔ انہوں نے تقریباً 1200کلوگرام (ایک ٹرالی لوڈ) ٹماٹر مفت تقسیم کرنا شروع کر دیا جس کے بعد بازار میں موجود افرادکا ہجوم امڈ پڑا اور لوگ تھیلوں اور کپڑوں میں ٹماٹر بھر کر لے جانے لگے۔


کسانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب ٹماٹر کی قیمت سنچری (100 روپے) پار کر گئی تھی لیکن اب قیمتیں زمین پر آ گری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قرض لے کر خون پسینہ ایک کر کے فصل اگائی تھی مگر اب بازار کی بے رخی نے انہیں سڑک پر لا کھڑا کیا ہے۔

کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹ لے اور متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کر کے انہیں خودکشی جیسے انتہائی اقدامات سے بچائے۔