حیدرآباد

آپریشن کے دوران ڈاکٹرس پیٹ میں روئی بھول گئے، خاتون کی موت

خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے دوران لاپرواہی سے ڈاکٹرس کی جانب سے پیٹ میں روئی کے بھول جانے کے نتیجہ میں ایک خاتون کی موت ہوگئی۔

حیدرآباد: خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے دوران لاپرواہی سے ڈاکٹرس کی جانب سے پیٹ میں روئی کے بھول جانے کے نتیجہ میں ایک خاتون کی موت ہوگئی۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری

یہ واقعہ تلنگانہ کے ناگرکرنول ضلع کے اچم پیٹ میں پیش آیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع کے درشن گڈہ ٹانڈہ کی ایک قبائلی خاتون روجا حاملہ تھی۔

اس کے ارکان خاندان نے اسے درد کی وجہ سے اس ماہ کی 15 تاریخ کو سرکاری اسپتال میں داخل کرایا جہاں خاتون نے ایک لڑکے کو جنم دیا لیکن اسی دن خاندانی منصوبہ بندی کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں نے غلطی سے پیٹ میں روئی بھول کر ٹانکے لگا دیئے۔

بعد ازاں روجا کو گھرجانے کی اجازت دے دی گئی۔بعد ازاں اس کی صحت کے خراب ہونے پر اس کے ارکان خاندان نے اسے دوبارہ سرکاری اسپتال سے رجوع کیا۔

ڈاکٹروں نے اسے جانچ کے لیے مقامی پرائیویٹ اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسے حیدرآباد لے جایا جائے۔

روجاکی اسی رات حیدرآباد کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی۔ بدھ کو اس کی لاش کے ساتھ اس کے رشتہ داروں نے سرکاری اسپتال کے سامنے احتجاج کیا۔