بین الاقوامی

ایران نواز شیعہ گروپس کے خلاف سنی تنظیموں کو میدان میں اُتارنے کی کوششیں

پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لئے اپنے ملک میں ایران کو پاکستانی شیعہ فرقہ کی بڑھتی تائید سے نمٹنا دردسر بنتا جارہا ہے۔ اس سے نمٹنا اہم ہے کیونکہ یہ بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لئے اپنے ملک میں ایران کو پاکستانی شیعہ فرقہ کی بڑھتی تائید سے نمٹنا دردسر بنتا جارہا ہے۔ اس سے نمٹنا اہم ہے کیونکہ یہ بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی فوج کے لئے پریشانی یہ ہے کہ وہ ایران نواز شیعہ گروپس کے اتحاد سے نمٹنے کے لئے سرکاری مشنری کا استعمال نہیں کرسکتی۔ پاکستان‘ ایران اور امریکہ کے بیچ صلح صفائی کرانا چاہتا ہے لہٰذا اس کا غیرجانبدار رہنا ضروری ہے۔

پاکستان میں شیعہ لوگوں کے خلاف کوئی بھی راست کارروائی ایران کو برہم کرسکتی ہے اور اسلام آباد اس سے بچنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے اب اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے نیابتی تنظیموں کی مدد حاصل کرلی ہے۔

پاکستانی فوجی سربراہ نے سخت گیر سنی عناصر اور سپاہ صحابہ اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ شیعوں سے نمٹیں جو ایران کی تائید میں بڑی تعداد میں متحد ہورہے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور جماعت الدعوۃ سابق میں پاکستانی فوج کی مدد کرچکی ہیں۔

ان تنظیموں کے ارکان کو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ پاکستانی فوج پر سوال اٹھانے والوں کے خلاف سڑکوں پر تشدد برپا کریں۔ سپاہ صحابہ‘ممنوعہ سنی دیوبندی تنظیم ہے۔

1985 میں قائم ہونے والی یہ جماعت سیاسی پارٹی بھی رہ چکی ہے۔ اس کا قیام صرف پاکستان میں بڑھتے شیعہ اثرورسوخ کی مخالفت کے لئے عمل میں آیا تھا۔ دوسری جانب جماعت الدعوۃ‘ لشکر طیبہ کا فلاحی ادارہ ہے۔ جماعت الدعوۃ والے اہل حدیث ہیں۔