قومی

الیکشن کمیشن بنگال میں پرامن انتخابات کے لیے تعینات کرے گا مرکزی فورسز کی 2,400 کمپنیاں

چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے ذرائع کے مطابق، تعیناتی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور مرکزی فورسز کی 480 کمپنیاں اس ماہ کے شروع میں ریاست پہنچ چکی ہیں۔ بقیہ 1,920 کمپنیوں کو آئندہ ہفتوں میں مرحلہ وار طریقے سے بھیجا جائے گا تاکہ حساس اور غیر حساس دونوں علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

کولکاتہ: ایک اہم پیش رفت میں، الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں آزادانہ، منصفانہ اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے ریاست میں مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 2,400 کمپنیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
طاہر حسین کی درخواست عبوری ضمانت کی 28 جنوری کو سماعت
مرشدآباد میں رام نومی پر جھڑپیں، الیکشن کمیشن ذمہ دار: ممتا
جھارکھنڈ میں انڈیا بلاک کی حکومت بنے گی: لالوپرساد یادو
عوامی تعاون سے ہی نیشنل کانفرنس پھر سُرخ رو ہوئی: فاروق عبداللہ
جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت تشکیل دے گی: شیوراج سنگھ چوہان


اس اقدام کو ریاست کی انتخابی تاریخ کے سب سے جامع حفاظتی انتظامات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہونے والے دو مرحلوں کے انتخابات کے دوران اور بعد میں تشدد کو روکنا ہے۔


چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے ذرائع کے مطابق، تعیناتی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور مرکزی فورسز کی 480 کمپنیاں اس ماہ کے شروع میں ریاست پہنچ چکی ہیں۔ بقیہ 1,920 کمپنیوں کو آئندہ ہفتوں میں مرحلہ وار طریقے سے بھیجا جائے گا تاکہ حساس اور غیر حساس دونوں علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔


تعیناتی کے شیڈول کے مطابق، 300 کمپنیوں کے اگلے بیچ کی 31 مارچ تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس کے بعد سات، 10، 13 اور 17 اپریل کو مزید تعیناتیاں کی جائیں گی۔


ذرائع نے بتایا کہ سات اپریل اور 10 اپریل کو 300-300 کمپنیاں آئیں گی، اس کے بعد 13 اپریل کو 277 کمپنیاں اور 17 اپریل کو 743 کمپنیاں پہنچیں گی، جس سے پولنگ شروع ہونے سے پہلے مجموعی تعیناتی مکمل ہو جائے گی۔


سی ای او دفتر کے ذرائع نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے اختتام کے بعد بھی مرکزی فورسز کی تقریباً 500 کمپنیاں ریاست میں تعینات رہیں گی۔
چونکہ ریاست میں انتخابات کے بعد تشدد کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اس لیے یہ قدم انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کسی بھی قسم کے تشدد کو روکنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔


الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کئی بے مثال اقدامات بھی کیے ہیں۔ مرکزی فورسز صرف پولنگ اسٹیشنوں تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑی کی صورت میں انہیں پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں کہیں بھی مداخلت کرنے کا اختیار ہوگا۔


افسران نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے یا دھمکیوں کی شکایات ملنے پر متاثرہ بوتھوں میں دوبارہ پولنگ بھی کرائی جا سکتی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بوتھ پر قبضہ کرنا، دھاندلی اور تشدد جیسی انتخابی بے ضابطگیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔


اس دوران، سکیورٹی ایجنسیوں نے ریاست میں حساس علاقوں اور نام نہاد شرپسند علاقوں کی نشاندہی کی ہے۔ کولکاتہ میں تقریباً 30 کمپنیاں پہلے ہی پہنچ چکی ہیں اور ووٹروں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں روٹ مارچ شروع ہو گئے ہیں۔


پولیس نے حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے تفصیلی روٹ میپ تیار کیے ہیں۔ افسران کی جانب سے ہموار اور تشدد سے پاک انتخابی عمل کو یقینی بنانے کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے، آئندہ دنوں میں دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کے روٹ مارچ اور سکیورٹی مشقیں منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔