دہلی

مسلمانوں کیلئے مساوی حقوق کویقینی بنایا جائے۔ خصوصی اختیارات نہ دیئے جائیں: بی جے پی ایم پی

دوبے نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو خصوصی حقوق دینے سے دستور خطرہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طورپر آرٹیکل 49 کی بات کرنا چاہتا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے جمعرات کے روز حکومت سے درخواست کی کہ وہ دستور کی دفعہ 14‘ 15 اور 49 پر عمل آوری کو یقینی بنائے تاکہ یہ تیقن دیا جاسکے کہ مسلمانوں کو خصوصی نہیں بلکہ مساوی حقوق حاصل ہوں جو انہیں محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کی یادگاروں کی ملکیت کا دعویٰ کرنے کا اختیار یا کنٹراکٹس اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرتے ہوں۔

متعلقہ خبریں
سدارامیا کو ’’کاہل‘‘ قرار دینے پر بی جے پی ایم پی کے خلاف ایف آئی آر درج
جنگ بدر: حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ، مرکز نالج سٹی میں عظیم الشان روحانی کانفرنس
مہوا موئترا پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا نیا الزام
مودی کی گارنٹی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہونے دیں گے:مودی
رمضان المبارک کے انتظامات پر ضلع ایڈیشنل کلکٹر محبوب نگر  کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

دوبے نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو خصوصی حقوق دینے سے دستور خطرہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طورپر آرٹیکل 49 کی بات کرنا چاہتا ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

اس ملک میں 2 قوانین منظور کئے گئے ہیں۔ عبادت گاہوں سے متعلق قانون جو ہندوؤں سے یہ کہتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور وقف ترمیمی بل 1995 جو صارف کی طرف سے وقف کی بات کرتا ہے‘ جس کے تحت مسلمان کسی جائیداد کو وقف بہ اعتبار استعمال ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔

دوبے نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے اے ایس آئی کے زیرقبضہ یادگار عمارتیں اور مدارس کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

گوڈا کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا ”آپ انہیں جائیداد کے حقوق دے رہے ہیں‘ کنٹراکٹس اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کررہے ہیں۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دفعہ 14‘ 15 اور 49 کو نافذ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مسلمانوں کو بھی دوسروں کی طرح مساوی حقوق حاصل ہوں۔