تلنگانہ

کسان ٹماٹر اب مفت تقسیم کرنے پر مجبور ہوگئے

محبوب آباد ضلع کے تھورور اور کوداڑ کے کسانوں (ساریا، موہن اور سریندر) نے جب دیکھا کہ ان کی محنت کی کوئی قدر نہیں تو انہوں نے ٹرالی کی ٹرالی ٹماٹر بھر کر عوام میں مفت تقسیم کر دیئے۔اسی طرح جنگاؤں کے تری گوپلا منڈل میں کسان سدئیا نے بھی منڈی میں اپنی فصل مفت بانٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے اضلاع جنگاؤں اور محبوب آباد میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی گراوٹ نے کسانوں کو اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی فصل بازار میں فروخت کرنے کے بجائے مفت تقسیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مرکزی ٹیم کی ملاقات
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ برخاست، اردو میڈیم اسکول کے طلبہ منتقلی معاملہ میں بڑی کارروائی
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔


اطلاعات کے مطابق ریٹیل مارکٹ میں ٹماٹر کی قیمت 15 سے 20 روپے فی کلو ہے لیکن جب کسان اپنی فصل منڈی لے کر پہنچتا ہے تو تاجر اسے صرف 2 روپے فی کلو کی پیشکش کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ کئی جگہوں پر 20 کلو کا کریٹ محض 40 روپے میں مانگا جا رہا ہے جس سے کسان کی لاگت تو دور، ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی پورا نہیں ہو رہا۔


محبوب آباد ضلع کے تھورور اور کوداڑ کے کسانوں (ساریا، موہن اور سریندر) نے جب دیکھا کہ ان کی محنت کی کوئی قدر نہیں تو انہوں نے ٹرالی کی ٹرالی ٹماٹر بھر کر عوام میں مفت تقسیم کر دیئے۔اسی طرح جنگاؤں کے تری گوپلا منڈل میں کسان سدئیا نے بھی منڈی میں اپنی فصل مفت بانٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔


جیسے ہی کسانوں نے ٹماٹر فری کا اعلان کیا، بازار میں موجود خریداروں کا ہجوم امڈ آیا۔ لوگ تھیلے اور ٹوکریاں بھر بھر کر ٹماٹر لے گئے لیکن اس ہجوم کے پیچھے کسان کی وہ آہیں چھپی تھیں جو مہینوں کی محنت ضائع ہونے پر نکل رہی تھیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ کبھی ٹماٹر سنچری (100 روپے) پار کر جاتا ہے لیکن آج ہمیں 2 روپے بھی نہیں مل رہے۔ فصل کو سڑنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم اسے غریبوں میں بانٹ دیں تاکہ کم از کم ان کا بھلا ہو سکے۔


متاثرہ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزیوں کے لیے ایم ایس پی مقرر کی جائے اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کسانوں کو اس طرح کی ذلت آمیز صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔