روس میں جنگی نوعیت کے کاموں میں پھنسے تلنگانہ کے چار افراد، اہل خانہ کی حکومت سے مدد کی اپیل
تلنگانہ کے نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر روس لے جانے اور مبینہ طور پر جنگی نوعیت کے خطرناک کاموں میں لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے تلنگانہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر روس لے جانے اور مبینہ طور پر جنگی نوعیت کے خطرناک کاموں میں لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے تلنگانہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔
متاثرہ افراد کی شناخت بھوکیا رویندر، سروش اشوک، میگھاوَت پرکاش اور محمد افضل خان کے طور پر کی گئی ہے۔ اہل خانہ نے حیدرآباد میں منعقدہ ’سی ایم پرجاوانی‘ پروگرام میں تحریری نمائندگی پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے مداخلت کی درخواست کی۔
تلنگانہ حکومت کی این آر آئی ایڈوائزری کمیٹی کے وائس چیئرمین مندھا بھیم ریڈی نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے نمائندگی موصول ہوئی ہے، جسے ضروری کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ چاروں افراد کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
ملازمت کا وعدہ، پھر مبینہ طور پر خطرناک کام
اہل خانہ کے مطابق، چاروں افراد کو روس میں ملازمت دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ روس پہنچنے کے بعد انہیں ابتدا میں گھاس کاٹنے، باغبانی اور دیگر معمولی کاموں پر لگایا گیا۔ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تقریباً پانچ ماہ تک کام کیا، تاہم انہیں صرف دو ماہ کی اجرت ادا کی گئی۔
بعد ازاں مبینہ طور پر انہیں کام سے محروم کردیا گیا اور پھر روسی فوج سے متعلق کام کرنے کے لیے آمادہ کیا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں روسی شہریت اور بہتر معاوضے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا، تاہم انہیں خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔
شکایت کے مطابق، چاروں افراد سے مبینہ طور پر بم منتقل کرنے اور جنگی محاذ پر خطرناک نوعیت کی ڈیوٹیاں انجام دینے کا کام لیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس دوران انہیں جسمانی اذیت بھی برداشت کرنا پڑی اور وہ زخمی ہوئے۔
یوکرین پہنچنے کی اطلاع
متاثرہ افراد کے اہل خانہ کے مطابق، حال ہی میں چاروں افراد نے انہیں اطلاع دی کہ وہ یوکرین کی سرحد عبور کرکے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ تاہم، ان کے موجودہ مقام اور حالات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
اہل خانہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزارت خارجہ، ماسکو میں ہندوستانی سفارتخانے اور روسی حکام کے ساتھ رابطہ کرکے چاروں افراد کے موجودہ مقام اور سلامتی کی تصدیق کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاروں افراد کو مبینہ فوجی نوعیت کے کاموں سے آزاد کرایا جائے اور انہیں بحفاظت ہندوستان واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اس کے علاوہ، خاندانوں نے ان ایجنٹوں کے خلاف بھی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرون ملک ملازمت کا وعدہ کرکے متاثرہ افراد سے رقم حاصل کی اور انہیں مبینہ طور پر خطرناک حالات میں پہنچا دیا۔
اب متاثرہ خاندان ریاستی حکومت اور مرکزی وزارت خارجہ کی کارروائی کے منتظر ہیں تاکہ ان کے عزیزوں کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے اور انہیں جلد از جلد وطن واپس لایا جاسکے۔