خیریت آباد ضمنی انتخاب: کانگریس میں ٹکٹ کے لیے دانم ناگیندر اور وجئے ریڈی کے حامی آمنے سامنے
دانم ناگیندر نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر خیریت آباد سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تقریباً تین ماہ بعد وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔ دوسری جانب وجئے ریڈی نے 2023 میں کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا تھا اور شکست کے باوجود حلقے میں پارٹی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں۔
حیدرآباد: خیریت آباد اسمبلی حلقے میں ضمنی انتخاب کی سرگرمیوں کے درمیان کانگریس کے اندر امیدوار کے انتخاب کو لے کر اختلافات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سابق رکن اسمبلی دانم ناگیندر اور کانگریس کی مقامی رہنما وجئے ریڈی کے حامی اپنے اپنے امیدوار کے حق میں دعویداری پیش کر رہے ہیں، جس کے باعث پارٹی قیادت کے سامنے امیدوار کے انتخاب کا معاملہ اہم بن گیا ہے۔
دانم ناگیندر نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر خیریت آباد سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تقریباً تین ماہ بعد وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔ دوسری جانب وجئے ریڈی نے 2023 میں کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا تھا اور شکست کے باوجود حلقے میں پارٹی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں۔
مقامی سیاسی حلقوں کے مطابق، دانم ناگیندر کی کانگریس میں شمولیت کے بعد سے دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دونوں گروپوں نے حلقے میں اپنی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ترقیاتی کاموں کے افتتاح اور مقامی پروگراموں کے حوالے سے بھی دونوں گروپوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ اب ضمنی انتخاب کی صورتحال میں یہ اختلافات ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔
ٹکٹ کے معاملے پر پارٹی قیادت کے سامنے چیلنج
کانگریس کے اندر ایک رائے یہ ہے کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک امیدوار کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو دوسرے گروپ کی جانب سے انتخابی مہم میں مکمل تعاون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی قیادت کے لیے امیدوار کا فیصلہ اہم ہوگیا ہے۔
دانم ناگیندر کے سیاسی مستقبل کو لے کر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عدالتوں میں قانونی کارروائی کے باوجود ان کی اسمبلی رکنیت برقرار نہیں رہ سکی، جس کے بعد خیریت آباد میں ضمنی انتخاب کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ کانگریس میں شمولیت کے وقت انہیں اہم سیاسی ذمہ داریوں اور وزارت سے متعلق یقین دہانیاں دی گئی تھیں، تاہم بعد میں ان پر عمل نہیں ہوا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی سطح پر بعض سرکاری عہدیداروں کی جانب سے ان کی ہدایات کو نظر انداز کیے جانے پر دانم ناگیندر نے اسمبلی میں بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
وجئے ریڈی کے حامیوں کا وفاداری پر زور
دوسری جانب وجئے ریڈی کے حامی ان کی دعویداری کو مضبوط قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وجئے ریڈی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا اور شکست کے باوجود حلقے میں عوامی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ رہنے والے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی امیدوار کے انتخاب میں اہمیت دی جانی چاہیے۔
وجئے ریڈی کا تعلق سابق کانگریس رہنما پی جناردھن ریڈی، المعروف پی جے آر، کے خاندان سے ہے۔ خیریت آباد میں اس خاندان کی طویل سیاسی وابستگی رہی ہے، جسے ان کے حامی ٹکٹ کی دعویداری کے حوالے سے اہم نکتہ قرار دے رہے ہیں۔
پی جے آر کے فرزند وشنو وردھن ریڈی بھی طویل عرصے تک کانگریس سے وابستہ رہے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں جوبلی ہلز سے پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر اختلافات کے بعد انہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
اب خیریت آباد ضمنی انتخاب کے پیش نظر کانگریس قیادت کے سامنے امیدوار کے انتخاب کے ساتھ ساتھ مختلف گروپوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کا چیلنج بھی ہے۔ پارٹی کا حتمی فیصلہ ہی واضح کرے گا کہ ضمنی انتخاب میں کانگریس کس امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے اور مقامی سطح پر موجود اختلافات سے کس طرح نمٹا جاتا ہے۔