گھوس خور پنڈت‘ شائقین کو تفریح فراہم کرنے کے ارادے سے بنائی گئی ہے: نیرج پانڈے
نیرج پانڈے نے کہا ہے کہ اس فلم کا کسی بھی ذات، مذہب یا برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی کی نمائندگی کرتی ہے
بالی ووڈ فلمساز نیرج پانڈے کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم ‘گھوس خور پنڈت’ ناظرین کی تفریح کے مقصد سے بنائی ہے اور اس کا کسی بھی ذات، مذہب یا برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
الزام لگایا جا رہا ہے کہ ویب سیریز گھوس خور پنڈت کا عنوان ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنا کر اسے بدنام کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس پر صفائی دیتے ہوئے فلمساز نیرج پانڈے نے کہا ہے کہ اس فلم کا کسی بھی ذات، مذہب یا برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی کی نمائندگی کرتی ہے۔
نیرج پانڈے نے بتایا کہ ہماری فلم ایک فرضی پولیس ڈرامہ ہے۔ اس میں “پنڈت” نام صرف ایک فرضی کردار کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہ کہانی کسی ایک شخص کے کام اور اس کے فیصلوں پر مبنی ہے۔ اس کا کسی بھی ذات، مذہب یا برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی کی نمائندگی کرتی ہے۔
نیرج پانڈے نے کہا، ایک فلمساز کے طور پر میں اپنے کام کو ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتا ہوں اور ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور احترام کے ساتھ کہانیاں پیش کرتا ہوں۔ یہ فلم میری پچھلی فلموں کی طرح ایمانداری کے ساتھ اور صرف ناظرین کی تفریح کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔
ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ فلم کے عنوان سے کچھ ناظرین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اور ہم ان جذبات کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے فی الحال فلم سے جڑی تمام تشہیری مواد ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ فلم کو مکمل دیکھ کر اور کہانی کو سمجھ کر ہی کوئی رائے قائم کی جانی چاہیے، صرف چند حصے دیکھ کر نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔ میں جلد ہی اس فلم کو ناظرین کے سامنے پیش کروں گا۔