حیدرآباد

رسٹورنٹس کے بند ہونے کے سبب گگ ورکرس شدید مشکلات کا شکار

پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے ڈیلیوری بوائزکی روزانہ کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف ایندھن پر خرچ ہو رہا ہے۔ ورکرس کا کہنا ہے کہ کمپنیاں فی آرڈر معاوضہ میں اضافہ نہیں کر رہی ہیں جس سے ان کا منافع ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں کئی رسٹورنٹس کے بند ہونے کے سبب ڈیلیوری بوائز اور گگ ورکرس(غیرمنظم شعبہ کے ورکرس )کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال


سوئیگی، زومیٹو اور زیپٹو جیسے پلیٹ فارمس سے وابستہ ہزاروں نوجوان اب اپنے مستقبل کے سلسلہ میں فکر مند ہیں۔

پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے ڈیلیوری بوائزکی روزانہ کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف ایندھن پر خرچ ہو رہا ہے۔ ورکرس کا کہنا ہے کہ کمپنیاں فی آرڈر معاوضہ میں اضافہ نہیں کر رہی ہیں جس سے ان کا منافع ختم ہو کر رہ گیا ہے۔


کرایوں میں اضافہ اور بجلی کے مہنگے بلوں کی وجہ سے شہر کے کئی چھوٹے اور اوسط درجہ کے رسٹورنٹس بند ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ورکرس کو آرڈر پک کرنے کے لیے اب دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور ایندھن دونوں ضائع ہورہے ہیں۔

رسٹورنٹس کم ہونے کی وجہ سے موجودہ فوڈ ہبز پر ہجوم بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے ورکرس کو ایک ایک آرڈر کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، اس کا انہیں کوئی اضافی معاوضہ نہیں ملتا۔


تلنگانہ گگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین نے حکومت اور کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے تناسب سے ڈیلیوری چارجس میں اضافہ کیا جائے۔ ورکرس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر اقل ترین اجرت کا تعین کیا جائے۔

گگ ورکرز کے لئے ہیل انشورنس اور حادثاتی بیمہ کی سہولت فراہم کی جائے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان ورکرسکے مسائل حل نہ کئے گئے تو شہر کا ڈیلیوری سسٹم شدید متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ کام اب ورکرس کے لئے مالی طور پر فائدہ مند نہیں رہا۔