تلنگانہ

مندروں اور مٹھوں کو بھی منہدم کرنے کی سازش، کانگریس حکومت پر ہریش راو کا الزام

کوکا پیٹ نیو پولس میں واقع وشاکھا شاردا پیٹھ اور راج شیاملا اموارو مندر کو ریونیو اور پولیس حکام کی جانب سے اچانک گھیرے میں لئے جانے اور خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی اطلاع ملتے ہی ہریش راؤ وہاں پہنچ گئے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ حکومت اب غریبوں کے گھروں کے ساتھ ساتھ مندروں اور مٹھوں کو بھی منہدم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن میں حصہ نہ لینے بی آر ایس کا فیصلہ
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
ماہِ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، پہلے عشرے کے بعد بھی غفلت نہ برتی جائے: مولانا جعفر پاشاہ


کوکا پیٹ نیو پولس میں واقع وشاکھا شاردا پیٹھ اور راج شیاملا اموارو مندر کو ریونیو اور پولیس حکام کی جانب سے اچانک گھیرے میں لئے جانے اور خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی اطلاع ملتے ہی ہریش راؤ وہاں پہنچ گئے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریو نت ریڈی کی حکومت تباہی کے وقت عقل ماری جاتی ہے کی راہ پر چل رہی ہے اور اب مندروں کو گرانے کی سطح تک گر گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2019 میں کے چندرشیکھرراو کی حکومت نے کابینہ کی منظوری کے بعد قانونی طور پر کوکا پیٹ کے سروے نمبر 240 میں شاردا پیٹھ کو دو ایکڑ اراضی الاٹ کی تھی جس کے لئے پیٹھ کے منتظمین نے حکومت کو 1.05 کروڑ روپے ادا کر کے رجسٹریشن کروایا تھا اور ایچ ایم ڈی اے کو 23 لاکھ روپے فیس دے کر تمام ضروری اجازت نامے اور بجلی کے کنکشن حاصل کئے تھے۔


ہریش راؤ نے بتایا کہ یہاں ایک شاندار مندر، گؤ شالہ، انادانم سترم اور وید پاٹھ شالہ تعمیر کی گئی ہے جس کی نقاب کشائی ہائی کورٹ کے ججوں اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں ہوئی تھی لیکن اب ریو نت ریڈی،چندرشیکھرراو کی نشانیاں مٹانے کے نام پر مندروں اور مٹھوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایچ ایم ڈی اے کے قوانین کے مطابق او آر آر کے ایک کلومیٹر کے دائرہ میں کوئی کریشر نہیں ہونا چاہیے لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنے داماد کے فائدے کے لئے یہاں 5 ریڈی مکس پلانٹس اور کریشرس لگوائے ہیں اور بلڈرس کو دھمکایا جا رہا ہے کہ وہ وہیں سے کنکر خریدیں۔

ہریش راؤ نے سوال کیا کہ اپنے داماد کے کاروبار کے لئے 17 ایکڑ اراضی دینے والی حکومت، ہندو دھرم کی تبلیغ کرنے والے پیٹھ کی دو ایکڑ اراضی کیوں چھیننا چاہتی ہے۔

انہوں نے بغیر کسی نوٹس کے رات کے وقت پولیس اور ایم آر او کے ذریعہ پیٹھ کے ذمہ داروں کو ہراساں کرنے کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ شردھالووں کے جذبات کو مجروح کرنے کے بجائے فوری طور پر غیر قانونی کریشرس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔