حیدرآباد

ہائی کورٹ کی برہمی، ہائیڈرا کمشنر رنگناتھ کو عدالت میں شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت

متاثرہ فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود ہائیڈرا حکام نے متنازعہ اراضی پر انہدامی کارروائیاں انجام دیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکام سرکاری اراضی کے تحفظ کے نام پر حقائق کے برخلاف دعوے کررہے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے ایک مقدمہ میں ایک بار پھر ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کے رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عدالت میں شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔

متاثرہ فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود ہائیڈرا حکام نے متنازعہ اراضی پر انہدامی کارروائیاں انجام دیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکام سرکاری اراضی کے تحفظ کے نام پر حقائق کے برخلاف دعوے کررہے ہیں۔

یہ تنازعہ ضلع سنگاریڈی کے امین پور منڈل کے موضع ایلاپور میں واقع 36.37 ایکڑ اراضی سے متعلق ہے، جس میں سروے نمبرات 173 (جزوی)، 175 (جزوی) اور دیگر سروے نمبرات شامل ہیں۔

سال 2024 میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنے احکامات میں مذکورہ اراضی کو خانگی افراد کی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس پر انہدامی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

تاہم درخواست گزار کا الزام ہے کہ ہائیڈرا نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اراضی پر انہدامی کارروائیاں انجام دیں۔ مزید یہ دعویٰ کیا گیا کہ حکام نے کارروائی کو سرکاری اراضی کے تحفظ سے تعبیر کرتے ہوئے غلط معلومات پیش کیں۔

درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ، محکمہ بلدی نظم و نسق کی پرنسپل سکریٹری ٹی کے سری دیوی، ضلع کلکٹر سنگاریڈی اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کو نوٹس جاری کیے۔

عدالت نے متعلقہ عہدیداروں سے وضاحت طلب کی کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ ساتھ ہی انہیں عدالت میں شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت بھی دی گئی۔

اس پیش رفت کے بعد ہائیڈرا کی انہدامی کارروائیوں پر ایک بار پھر عدالتی نگرانی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ عدالت کے سابقہ احکامات پر عمل آوری اور متنازعہ اراضی سے متعلق الزامات پر آئندہ سماعتوں میں مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔