بھو بھارتی نہیں، بھو ہرتی! رویریالہ میں 11.33 ایکڑ اراضی کے ریکارڈ میں مبینہ ہیرا پھیری
الزامات کے مطابق سروے نمبر 8/5 میں موجود 2.31 ایکڑ اراضی کو ممنوعہ فہرست سے خارج کرنے کے بعد فی ایکڑ 91 لاکھ روپے کے حساب سے منتخب افراد کے نام رجسٹر کیا گیا۔ تاہم رجسٹری کے فوری بعد اسی اراضی کو دوبارہ ممنوعہ فہرست میں شامل کردیا گیا اور اس کی قیمت بڑھا کر فی ایکڑ 35.29 کروڑ روپے مقرر کردی گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع رنگاریڈی کے مہیشورم منڈل کے موضع رویریالہ میں اراضی کے ریکارڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ محکمہ مال کے عہدیداروں نے سیکشن 22A کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے ممنوعہ فہرست میں شامل 11.33 ایکڑ اراضی کو اس فہرست سے خارج کیا اور بعد ازاں مختلف افراد کے نام رجسٹریاں کرتے ہوئے پٹہ پاس بکس بھی جاری کردیں۔
اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے بعض حلقوں نے سرکاری اراضی ریکارڈ نظام ’’بھو بھارتی‘‘ کو طنزیہ انداز میں ’’بھو ہرتی‘‘ قرار دیا ہے، جس کا مطلب اراضی کے اثاثوں کو ضائع کرنا ہے۔
الزامات کے مطابق سروے نمبر 8/5 میں موجود 2.31 ایکڑ اراضی کو ممنوعہ فہرست سے خارج کرنے کے بعد فی ایکڑ 91 لاکھ روپے کے حساب سے منتخب افراد کے نام رجسٹر کیا گیا۔ تاہم رجسٹری کے فوری بعد اسی اراضی کو دوبارہ ممنوعہ فہرست میں شامل کردیا گیا اور اس کی قیمت بڑھا کر فی ایکڑ 35.29 کروڑ روپے مقرر کردی گئی۔
حیرت انگیز طور پر اگلے ہی دن اراضی کی قیمت گھٹا کر فی ایکڑ 1.19 کروڑ روپے کردی گئی اور کچھ ہی عرصہ بعد اسے مزید کم کرکے 60.90 لاکھ روپے فی ایکڑ کردیا گیا۔ قیمتوں میں اس قدر تیزی سے تبدیلی نے محکمہ مال کے طریقہ کار پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
ناقدین کا سوال ہے کہ عدالت میں زیرسماعت اراضی کو ضلع کلکٹر کی منظوری کے بغیر ممنوعہ فہرست سے کیسے خارج کیا گیا اور اس کی رجسٹریاں کس بنیاد پر کی گئیں؟ اس معاملے میں سیاسی مداخلت کے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
دوسری جانب چنتلا مرلی دھر ریڈی نے شکایت کی ہے کہ سروے نمبر 8/A میں واقع ان کی موروثی 6 ایکڑ 4 گنٹے اراضی ان کے علم اور رضامندی کے بغیر دوسرے افراد کے نام رجسٹر کردی گئی۔
اس معاملے کے منظرعام پر آنے کے بعد یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ مبینہ طور پر محکمہ مال کے عہدیداروں کو کس کی سرپرستی حاصل تھی اور اراضی کے ریکارڈ میں تبدیلیوں کے پیچھے کون سرگرم تھا۔
سیکشن 22A کے تحت ممنوعہ اراضی کے تحفظ اور بھو بھارتی نظام میں شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرتے ہوئے اراضی کو ممنوعہ فہرست سے خارج کرنے، رجسٹریاں کرنے اور قیمتوں میں بار بار تبدیلی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔