حیدرآباد

ہائی کورٹ کی حائیڈرا کمشنر پر کڑی تنقید، "عدالتی طاقت دکھانا پڑا تو دکھائیں گے!”

درخواست گزاروں کے وکیل نے الزام لگایا کہ حکمِ امتناع کے باوجود بحالی کا کام جاری رہا، جس سے پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچا۔ وکیل نے کہا کہ حیدرا کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ زمین کے پٹہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرا کمشنر اے وی رنگاناتھ کو انتہائی سخت لہجے میں متنبہ کیا ہے کہ اگر ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا رہا تو عدالت کو اپنی طاقت دکھانا پڑے گی۔ عدالت نے کہا کہ امید ہے ایسا وقت کبھی نہ آئے، مگر قانون سب کے لیے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

جسٹس بی وجیاسین ریڈی نے تمیڈی کنٹا ٹینک کی بحالی سے متعلق عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر کمشنر سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سخت سوالات کیے۔ عدالت نے کہا کہ lake کی حفاظت اچھی بات ہے، مگر قانون کی پروا کیے بغیر کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ چھوٹے زمین مالکان کی محنت کی کمائی پر ہائیڈرا بغیر نوٹس کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ یہی لے آؤٹس پہلے پنچایتوں سے منظور شدہ تھے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ FTL علاقوں میں بھی پٹہ اراضیات موجود ہوتی ہیں اور قانون انہیں تسلیم کرتا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے الزام لگایا کہ حکمِ امتناع کے باوجود بحالی کا کام جاری رہا، جس سے پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچا۔ وکیل نے کہا کہ حیدرا کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ زمین کے پٹہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔

کمشنر رنگاناتھ نے وضاحت دی کہ حکم کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور صرف میڈیکل ویسٹ ہٹایا گیا تاکہ پانی آلودہ نہ ہو۔ ریاست کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بھی حیدرا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئیں۔عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔