حیدرآباد

ہائی کورٹ کی حائیڈرا کمشنر پر کڑی تنقید، "عدالتی طاقت دکھانا پڑا تو دکھائیں گے!”

درخواست گزاروں کے وکیل نے الزام لگایا کہ حکمِ امتناع کے باوجود بحالی کا کام جاری رہا، جس سے پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچا۔ وکیل نے کہا کہ حیدرا کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ زمین کے پٹہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرا کمشنر اے وی رنگاناتھ کو انتہائی سخت لہجے میں متنبہ کیا ہے کہ اگر ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا رہا تو عدالت کو اپنی طاقت دکھانا پڑے گی۔ عدالت نے کہا کہ امید ہے ایسا وقت کبھی نہ آئے، مگر قانون سب کے لیے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

جسٹس بی وجیاسین ریڈی نے تمیڈی کنٹا ٹینک کی بحالی سے متعلق عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر کمشنر سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سخت سوالات کیے۔ عدالت نے کہا کہ lake کی حفاظت اچھی بات ہے، مگر قانون کی پروا کیے بغیر کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ چھوٹے زمین مالکان کی محنت کی کمائی پر ہائیڈرا بغیر نوٹس کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ یہی لے آؤٹس پہلے پنچایتوں سے منظور شدہ تھے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ FTL علاقوں میں بھی پٹہ اراضیات موجود ہوتی ہیں اور قانون انہیں تسلیم کرتا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے الزام لگایا کہ حکمِ امتناع کے باوجود بحالی کا کام جاری رہا، جس سے پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچا۔ وکیل نے کہا کہ حیدرا کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ زمین کے پٹہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔

کمشنر رنگاناتھ نے وضاحت دی کہ حکم کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور صرف میڈیکل ویسٹ ہٹایا گیا تاکہ پانی آلودہ نہ ہو۔ ریاست کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بھی حیدرا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئیں۔عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔