حیدرآباد

حیدرآباد: کے بی آر پارک کے قریب ایلیویٹیڈ کوریڈور کی تعمیر میں تیزی، ٹریفک جام سے راحت کی امید

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے شہر میں ٹریفک کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کم کرنے اور گاڑیوں کی آمدورفت کو سگنل فری بنانے کے مقصد سے جوبلی ہلز چیک پوسٹ سے این ایف سی آئی جنکشن تک مجوزہ ایلیویٹیڈ کوریڈور کے کاموں میں تیزی پیدا کردی ہے۔

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے شہر میں ٹریفک کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کم کرنے اور گاڑیوں کی آمدورفت کو سگنل فری بنانے کے مقصد سے جوبلی ہلز چیک پوسٹ سے این ایف سی آئی جنکشن تک مجوزہ ایلیویٹیڈ کوریڈور کے کاموں میں تیزی پیدا کردی ہے۔

جی ایچ ایم سی کمشنر آر وی کرنن نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ منصوبے سے متعلق مختلف ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس منصوبے کا مقصد کے بی آر پارک اور اس کے اطراف کے مصروف علاقوں میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے۔

کمشنر نے کے بی آر پارک کے مرکزی دروازے، اگارسین جنکشن اور جوبلی ہلز چیک پوسٹ کے قریب ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ ان مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے ٹریفک کی روانی میں بہتری اور اہم جنکشنوں پر گاڑیوں کے ازدحام میں کمی کی توقع ہے۔

انہوں نے کے بی آر پارک کے اطراف برقی لائنوں اور دیگر یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے سلسلے میں تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل) کے ساتھ تال میل قائم کرنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ تعمیراتی کاموں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

اسی طرح مغدھا جنکشن سے این ایف سی آئی جنکشن تک جیو ٹیکنیکل تحقیقات جلد مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعے زمین کی نوعیت کا جائزہ لے کر تعمیراتی کاموں کے اگلے مراحل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

جوبلی ہلز چیک پوسٹ سے مغدھا جنکشن کے درمیان بنیادوں کی کھدائی اور تعمیراتی اسٹیل کی آف سائٹ تیاری کے کاموں میں بھی تیزی لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مجوزہ ایلیویٹیڈ کوریڈور سے جوبلی ہلز چیک پوسٹ اور این ایف سی آئی جنکشن کے درمیان رابطہ بہتر ہونے اور کے بی آر پارک کے اطراف ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

جی ایچ ایم سی شہر میں ٹریفک مسائل پر قابو پانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بہتر ٹریفک انتظام کے اقدامات کر رہی ہے۔ منصوبے پر کام میں تیزی سے روزانہ اس راستے سے گزرنے والے مسافروں اور گاڑی سواروں کو مستقبل میں راحت ملنے کی امید ہے۔