2047 تک ہندوستانی معیشت میں تلنگانہ کا حصہ 10 فیصد کرنے کا ہدف: ریونت ریڈی
تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کا مقصد 2047 تک ہندوستان کی مجموعی معیشت میں تلنگانہ کے حصے کو بڑھا کر 10 فیصد تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا جغرافیائی محلِ وقوع، محفوظ ماحول، تحقیقی سہولتیں اور صنعتی ترقی ریاست کے معاشی اہداف کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کا مقصد 2047 تک ہندوستان کی مجموعی معیشت میں تلنگانہ کے حصے کو بڑھا کر 10 فیصد تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا جغرافیائی محلِ وقوع، محفوظ ماحول، تحقیقی سہولتیں اور صنعتی ترقی ریاست کے معاشی اہداف کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
چیف منسٹر نے دفاعی سازوسامان کی تیاری، ایرو اسپیس اور ان سے وابستہ صنعتوں کو تلنگانہ کی معاشی ترقی کے اہم محرکات قرار دیا۔ ان کے مطابق، رکشا ایکسپو جیسے پروگرام سرمایہ کاری کو فروغ دینے، نئی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے اور ریاست کو ان شعبوں میں مضبوط مقام دلانے کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میں مضبوط تحقیقی نظام، ترقی یافتہ صنعتی بنیادی ڈھانچہ اور محفوظ ماحول جیسی خصوصیات موجود ہیں، جو اسے سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک اہم مرکز بناتی ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ عوامل تلنگانہ کے طویل مدتی معاشی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے۔
چیف منسٹر نے آپریشن سندور کے دوران منعقدہ مس ورلڈ مقابلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 108 ممالک سے آنے والے شرکاء نے حیدرآباد میں خود کو محفوظ محسوس کیا۔ انہوں نے اسے شہر کی اس صلاحیت کی مثال قرار دیا کہ وہ مشکل حالات میں بھی بڑے بین الاقوامی پروگراموں کی میزبانی کرسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی اور ایرو اسپیس صنعتوں کو وسعت دینے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور تکنیکی ترقی کو فروغ ملے گا۔ حکومت ان شعبوں میں ریاست کی صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
رکشا ایکسپو کے ذریعے صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ اداروں کو دفاعی پیداوار اور اس سے وابستہ شعبوں میں کاروباری امکانات تلاش کرنے کا موقع ملنے کی توقع ہے۔ یہ اقدام تلنگانہ کی صنعتی بنیاد کو متنوع بنانے اور ریاست کی معاشی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ریونت ریڈی نے تلنگانہ کی سیاسی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے مختلف ادوار میں تلگو دیشم پارٹی (1994 تا 2004)، کانگریس (2004 تا 2014) اور بھارت راشٹرا سمیتی (2014 تا 2023) کی حکومتیں دیکھی ہیں، جبکہ اب موجودہ حکومت ریاست کی ترقی کے لیے کام کررہی ہے۔
چیف منسٹر کے مطابق، 2047 تک ہندوستانی معیشت میں تلنگانہ کا حصہ 10 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ریاست میں صنعتی ترقی، جدت طرازی، سرمایہ کاری اور جدید مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں حیدرآباد کو دفاعی پیداوار، ایرو اسپیس اور جدید صنعتوں کے اہم مرکز کے طور پر ترقی دینے پر توجہ دی جارہی ہے۔