تلنگانہ حکومت کی آر ٹی سی اراضی پر نظر؟ جے اے سی قائدین کی مخالفت
تلنگانہ میں ریونت ریڈی حکومت کے آر ٹی سی کراس روڈز کے قریب واقع تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی) کی 6 ایکڑ 15 گنٹہ اراضی کو تلنگانہ ہاؤزنگ بورڈ کے حوالے کرنے کے مبینہ فیصلے پر آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے قائدین نے سخت مخالفت کی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں ریونت ریڈی حکومت کے آر ٹی سی کراس روڈز کے قریب واقع تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی) کی 6 ایکڑ 15 گنٹہ اراضی کو تلنگانہ ہاؤزنگ بورڈ کے حوالے کرنے کے مبینہ فیصلے پر آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے قائدین نے سخت مخالفت کی ہے۔
آر ٹی سی جے اے سی قائدین کے مطابق، حکومت نے غریبوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے نام پر مذکورہ اراضی ہاؤزنگ بورڈ کے حوالے کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا ہے۔ قائدین نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں عوامی رائے حاصل نہیں کی گئی اور نہ ہی متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی۔
قائدین نے بتایا کہ محکمہ مال نے 22 اکتوبر کو اس سلسلے میں جی او نمبر 206 جاری کیا۔ انہوں نے حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اراضی کے 25 گنٹہ حصے کو اراضی کی مونیٹائزیشن کے نام پر عوامی فروخت کے لیے پیش کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
آر ٹی سی جے اے سی قائدین نے تشویش ظاہر کی کہ اس اقدام سے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی قیمتی املاک سے محرومی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ٹی جی ایس آر ٹی سی کی اراضی کا تحفظ یقینی بنائے۔
قائدین نے خبردار کیا کہ اگر آر ٹی سی کی اراضی پر قبضے یا اسے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مجوزہ اقدام سے باز رہے اور اس معاملے میں متعلقہ فریقین کے تحفظات دور کرے۔
اس معاملے نے حیدرآباد میں سرکاری اراضی کے استعمال اور عوامی ملکیت کی جائیدادوں سے متعلق فیصلوں میں شفافیت کی ضرورت پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔