حیدرآباد

حیدرآباد میٹرو کا بڑا قدم, 20 ٹرانس جینڈر سیکیورٹی اہلکاروں کی شمولیت

حیدرآباد میٹرو ریل نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی سیکیورٹی ٹیم میں 20 ٹرانس جینڈر افراد کو شامل کر لیا ہے، جس کا مقصد خواتین کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو باعزت روزگار فراہم کرنا ہے۔

حیدرآباد میٹرو ریل نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی سیکیورٹی ٹیم میں 20 ٹرانس جینڈر افراد کو شامل کر لیا ہے، جس کا مقصد خواتین کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو باعزت روزگار فراہم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
گنیش اتسو سمیتی اور وی ایچ پی کے وفد کی میٹرو ریل لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائرکٹرکو تجاویز
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

میٹرو انتظامیہ کے مطابق روزانہ تقریباً 5 لاکھ مسافر میٹرو میں سفر کرتے ہیں جن میں سے 30 فیصد خواتین ہوتی ہیں۔ اسی پیشِ نظر 57 اسٹیشنوں اور تین میٹرو کاریڈورز میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

نئے ٹرانس جینڈر سیکیورٹی عملے نے باضابطہ ٹریننگ اور انڈکشن مکمل کرنے کے بعد پیر (یکم دسمبر) سے مختلف میٹرو اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں اپنی خدمات کا آغاز کر دیا۔ یہ اقدام حکومتِ تلنگانہ کے اُس وسیع سماجی وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد محروم طبقات کو عزت، شمولیت اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔

میٹرو حکام کے مطابق نئی ٹیم کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں: خواتین کے لیے مختص کوچز اور عام مقامات میں سیکیورٹی میں اضافہ، مسافروں کی رہنمائی اور مدد، بیگیج اسکینر کے آپریشن میں معاونت، اسٹریٹ لیول اور کونکورس ایریا میں سیکیورٹی مضبوط کرنا اور اسٹیشن کے مجموعی حفاظتی انتظامات میں تعاون فراہم کرنا۔

حیدرآباد میٹرو ریل نے کہا کہ ٹرانس جینڈر سیکیورٹی عملے کی شمولیت شہر میں محفوظ، پُراعتماد اور شمولیتی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی تعمیر میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو نہ صرف خواتین کے تحفظ کو بہتر بناتا ہے بلکہ عوام میں اعتماد کو بھی بڑھاتا ہے۔