حیدرآباد

حیدرآباد پولیس نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ فراڈ کے تعلق سے وارننگ جاری کی

کسی بھی دھوکے کی صورت میں نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن (1930) یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کرائیں

حیدرآباد : حیدرآباد سٹی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ نے ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ کےحوالے سے الرٹ جاری کیا ہے، جس میں جعل ساز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، کوریئر عملہ یا سرکاری حکام بن کر متاثرین کو ڈرا دھمکا کر رقم بٹورتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

جمعہ کو جاری ایک بیان میں پولیس نے بتایا کہ یہ دھوکہ باز لوگوں کو منی لانڈرنگ، اسمگلنگ، منشیات یا دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث دکھا کر گرفتاری، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور اپنی ذاتی یا بینکنگ تفصیلات کسی کو نہ بتائیں بلکہ مشکوک کالز کی فوری اطلاع دیں۔ اس دھوکے میں جعل ساز سی بی آئی، کسٹمز، ای ڈی، ٹرائی اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے اہلکار بن کر جعلی ایف آئی آر، وارنٹ اور آر بی آئی کے خطوط دکھاتے ہیں تاکہ ان کی بات سچ معلوم ہو۔ وہ متاثرین پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے رقم منتقل کریں اور اس معاملے کو اہل خانہ سے خفیہ رکھیں۔

حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل اریسٹ جیسی کوئی قانونی اصطلاح نہیں ہے اور کوئی بھی ایجنسی آن لائن گرفتاری یا رقم کا مطالبہ نہیں کرتی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی کالز فوری کاٹ دیں، ثبوت محفوظ رکھیں اور کسی بھی دھوکے کی صورت میں نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن (1930) یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کرائیں