حیدرآباد

حیدرآباد پولیس نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ فراڈ کے تعلق سے وارننگ جاری کی

کسی بھی دھوکے کی صورت میں نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن (1930) یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کرائیں

حیدرآباد : حیدرآباد سٹی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ نے ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ کےحوالے سے الرٹ جاری کیا ہے، جس میں جعل ساز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، کوریئر عملہ یا سرکاری حکام بن کر متاثرین کو ڈرا دھمکا کر رقم بٹورتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

جمعہ کو جاری ایک بیان میں پولیس نے بتایا کہ یہ دھوکہ باز لوگوں کو منی لانڈرنگ، اسمگلنگ، منشیات یا دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث دکھا کر گرفتاری، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور اپنی ذاتی یا بینکنگ تفصیلات کسی کو نہ بتائیں بلکہ مشکوک کالز کی فوری اطلاع دیں۔ اس دھوکے میں جعل ساز سی بی آئی، کسٹمز، ای ڈی، ٹرائی اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے اہلکار بن کر جعلی ایف آئی آر، وارنٹ اور آر بی آئی کے خطوط دکھاتے ہیں تاکہ ان کی بات سچ معلوم ہو۔ وہ متاثرین پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے رقم منتقل کریں اور اس معاملے کو اہل خانہ سے خفیہ رکھیں۔

حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل اریسٹ جیسی کوئی قانونی اصطلاح نہیں ہے اور کوئی بھی ایجنسی آن لائن گرفتاری یا رقم کا مطالبہ نہیں کرتی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی کالز فوری کاٹ دیں، ثبوت محفوظ رکھیں اور کسی بھی دھوکے کی صورت میں نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن (1930) یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کرائیں