ذائقوں کا شہر حیدرآباد: رمضان المبارک میں حلیم اور افطار کی رونقیں
جب بات بریانی اور حلیم کی ہو، تو حیدرآباد کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی اس شہر کی گلیوں میں خوشبوئیں اور ذائقوں کا ایک ایسا سیلاب امڈ آتا ہے جو مقامی افرادکے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔
حیدرآباد: جب بات بریانی اور حلیم کی ہو، تو حیدرآباد کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی اس شہر کی گلیوں میں خوشبوئیں اور ذائقوں کا ایک ایسا سیلاب امڈ آتا ہے جو مقامی افرادکے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔
حیدرآباد کی افطار روایات دراصل دکنی، مغلائی اور فارسی تہذیب کا ایک حسین سنگم ہیں۔
سورج ڈھلتے ہی پورا شہر افطار کی دعوتوں کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پرانے شہر کے چارمینار سے لے کر نئے شہر کے ٹولی چوکی اور مانصاحب ٹینک تک، ہر علاقہ برقی قمقموں اور کھانے کے اسٹالس سے سج جاتا ہے۔ یہاں کی حلیم، کباب، شیر خورمہ اور نہاری صرف کھانے نہیں بلکہ ایک ثقافتی تجربہ ہیں۔
چارمینار کا علاقہ اپنی ایرانی چائے، عثمانیہ بسکٹ اور ملائی پایا کے لئے مشہور ہے، جبکہ ٹولی چوکی میں عربی اثرات کے حامل پکوان جیسے مندی، مٹن مرگ اور شوارما کثرت سے ملتے ہیں۔ مانصاحب ٹینک کا علاقہ نلی نہاری، کلچہ اور فیرنی کے شوقین افراد کا پسندیدہ مرکز ہے۔
مختصر یہ کہ حیدرآباد میں رمضان کا مہینہ صرف روزوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان غذائی اور ثقافتی جشن ہے، جہاں ہر نوالہ ایک نئی کہانی سناتا ہے۔