حیدرآباد

ذائقوں کا شہر حیدرآباد: رمضان المبارک میں حلیم اور افطار کی رونقیں

جب بات بریانی اور حلیم کی ہو، تو حیدرآباد کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی اس شہر کی گلیوں میں خوشبوئیں اور ذائقوں کا ایک ایسا سیلاب امڈ آتا ہے جو مقامی افرادکے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

حیدرآباد: جب بات بریانی اور حلیم کی ہو، تو حیدرآباد کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی اس شہر کی گلیوں میں خوشبوئیں اور ذائقوں کا ایک ایسا سیلاب امڈ آتا ہے جو مقامی افرادکے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

متعلقہ خبریں
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
مولانا نصیر الدین قاسمی کی ضمانت منظور، جمعیۃ علماء کی قانونی جدوجہد رنگ لے آئی
جمعیۃ اہلِ حدیث کے وفد کی ٹمریز چیئرمین محمد فہیم قریشی سے ملاقات، رمضان میں سحر و افطار و تراویح کے تاریخی انتظام پر مبارکباد
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی

حیدرآباد کی افطار روایات دراصل دکنی، مغلائی اور فارسی تہذیب کا ایک حسین سنگم ہیں۔


سورج ڈھلتے ہی پورا شہر افطار کی دعوتوں کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پرانے شہر کے چارمینار سے لے کر نئے شہر کے ٹولی چوکی اور مانصاحب ٹینک تک، ہر علاقہ برقی قمقموں اور کھانے کے اسٹالس سے سج جاتا ہے۔ یہاں کی حلیم، کباب، شیر خورمہ اور نہاری صرف کھانے نہیں بلکہ ایک ثقافتی تجربہ ہیں۔

چارمینار کا علاقہ اپنی ایرانی چائے، عثمانیہ بسکٹ اور ملائی پایا کے لئے مشہور ہے، جبکہ ٹولی چوکی میں عربی اثرات کے حامل پکوان جیسے مندی، مٹن مرگ اور شوارما کثرت سے ملتے ہیں۔ مانصاحب ٹینک کا علاقہ نلی نہاری، کلچہ اور فیرنی کے شوقین افراد کا پسندیدہ مرکز ہے۔


مختصر یہ کہ حیدرآباد میں رمضان کا مہینہ صرف روزوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان غذائی اور ثقافتی جشن ہے، جہاں ہر نوالہ ایک نئی کہانی سناتا ہے۔