حیدرآباد

حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا

حیدرآباد جو ملک کے میٹرو پولیٹن شہروں میں سے ایک ہے، اے پی تنظیم جدید ایکٹ بابتہ2014 کے تحت آج اتوار کے روز سے دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا۔

حیدرآباد: حیدرآباد جو ملک کے میٹرو پولیٹن شہروں میں سے ایک ہے، اے پی تنظیم جدید ایکٹ بابتہ2014 کے تحت آج اتوار کے روز سے دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب کو شاندار پیمانہ پر منعقد کیاجائے گا : چیف سکریٹری
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

2جون کے آغاز کے ساتھ سے ہی حیدرآباد صرف تلنگانہ کا صدر مقام رہے گا۔ 2014میں متحدہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد حیدرآباد کو 10سال تک تلگوکی دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام بنایا گیا تھا۔

2جون 2014کو تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے دن (2 جون) سے حیدرآباد کو10سال تک آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ صدر مقام بنایا گیا تھا اور اس کی مدت 10 سال سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔

اے پی تنظیم جدید ایکٹ میں یہ بات کہی گئی۔ ایکٹ کی ذیلی شق(1) میں اس بات کا واضح طور پر تذکرہ کیا گیا کہ 10سال کی مدت گزر نے کے بعد حیدرآباد صرف تلنگانہ کا صدر مقام رہے گا جبکہ اے پی کیلئے نیا دارالحکومت بنے گا۔

گزشتہ ماہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ 2 جون کے بعد حیدرآباد میں آندھرا پردیش کو تفویض کردہ عمارتوں بشمول لیک ویو گیسٹ ہاوز کو تحویل میں لے لیں۔