حیدرآبادسوشیل میڈیا

حیدرآبادی خاتون ریاض میٹروٹرین کی لوکوپائلیٹ

حیدرآباد کی ای اندرااب سعودی عرب کے ریاض شہر میں میٹروٹرین چلارہی ہیں۔گنٹورکی متوطن ای اندرا جو حیدرآباد میں رہائش پزیرہے قبل ازیں وہ حیدرآباد میٹرو ریل میں لوکوپائلیٹ کے طورپر کام کرچکی ہیں۔

حیدرآباد: سعودی عربیہ جوکبھی ساری دنیا میں خواتین کوگاڑیاں چلانے سے روکنے والا واحد ملک تھا لیکن اب یہاں کی خواتین نے دقیانوسی روایات کو توڑ تے ہوئے ویژن2030کے ذریعہ حاصل خواتین کو بااختیار بنانے مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے ہر شعبہ میں آگے آرہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی، ادبی فورم ،ریاض کے زیرِ اہتمام ماہانہ ادبی نشست
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم
ڈاکٹر سید انور خورشید کو پریواسی بھارتیہ سمان 2025 ایوارڈ ملنےپر تہنیتی جلسہ
سعودی میں منشیات اسمگلنگ 6 کو سزائے موت
سعودی عرب میں 3 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی

 اسی طرح حیدرآباد کی ای اندرااب سعودی عرب کے ریاض شہر میں میٹروٹرین چلارہی ہیں۔گنٹورکی متوطن ای اندرا جو حیدرآباد میں رہائش پزیرہے قبل ازیں وہ حیدرآباد میٹرو ریل میں لوکوپائلیٹ کے طورپر کام کرچکی ہیں۔

انہوں نے یہاں 3سال کے دوران 15 ہزار کیلومیٹرکافاصلہ طے کیا۔انہو ں نے بتایا کہ جب ان کا انتخاب ریاض میٹرو کے لئے عمل میں آیا تو رشتہ داروں نے کہاکہ تنہا خاتون کس طرح ریاض جاکر ٹرین چلائے گی۔

تاہم میں سعودی عرب چلی گئی۔انہوں نے بتایا کہ وہ ورلڈ کپ فٹبال کے موقع پر دوحہ میں ٹرین چلائی تھی۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے سعودی ساتھیوں سے کافی متاثر ہوئی ہیں اوریہاں سعودی عرب میں ویژن 2030 کے تحت خواتین کوبااختیار بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی خواتین میٹرو ٹرین چلانے میں اہم کردارادا کررہی ہیں۔اندرانے بتایا کہ ان کے شوہر بھی میٹرو ٹرین کے لوکوپائلیٹ ہے جوقطر میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔