حیدرآباد

حیدرا کی بڑی کارروائی: گنڈی پیٹ میں 1200 کروڑ روپے مالیت کی سرکاری اراضی کا تحفظ

سروے نمبر 43 کے تحت جملہ26 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے جس میں سے ایک ایکڑ بجلی کے سب اسٹیشن اور 9ایکڑ جی ایچ ایم سی کو کچرا ٹھکانے لگانے کے لئے پہلے ہی الاٹ کی جا چکی تھی تاہم مقامی افرادنے حیدراکے عوامی شکایات کے نظام کے ذریعہ اطلاع دی کہ بقیہ اراضی پر آہستہ آہستہ قبضہ کیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ ایسٹ پروٹیکشن ایجنسی (حیدرا)نے رنگاریڈی ضلع کے منڈل گنڈی پیٹ کے گاؤں گنڈن گوڑہ میں غیرمجازقبضوں کے خلاف ایک بڑی مہم چلاتے ہوئے 12.17 ایکڑ سرکاری اراضی کو قبضہ سے بچا لیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
گچی باؤلی میں حائیڈرا کا بڑا ایکشن، غیرقانونی تعمیرات کا صفایا، ہائی کورٹ کے احکامات پر فوری کارروائی
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

سرکاری اعلامیہ کے مطابق سروے نمبر 43 میں واقع اس اراضی کی مالیت تقریباً 1200 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔


سروے نمبر 43 کے تحت جملہ26 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے جس میں سے ایک ایکڑ بجلی کے سب اسٹیشن اور 9ایکڑ جی ایچ ایم سی کو کچرا ٹھکانے لگانے کے لئے پہلے ہی الاٹ کی جا چکی تھی تاہم مقامی افرادنے حیدراکے عوامی شکایات کے نظام کے ذریعہ اطلاع دی کہ بقیہ اراضی پر آہستہ آہستہ قبضہ کیا جا رہا ہے۔


حیدراکمشنر اے وی رنگناتھ کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کے حکام کے ساتھ مل کر وہاں کا معائنہ کیا گیا۔ اراضی کے سرکاری ہونے کی تصدیق کے بعد فوری طور پر باڑ لگانے کا کام مکمل کیا گیا۔


کارروائی کے دوران حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں پہلے سے موجود مسجد اور مندر کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا اور ان کو چھوڑ کر بقیہ سرکاری اراضی کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ حیدرا نے اراضی پر انتباہی بورڈس بھی نصب کر دیئے ہیں جن پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ سرکاری اراضی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔