حیدرآباد

حائیڈرانے ایراکنٹہ جھیل سے دوبارہ اپنی انہدامی کارروائی کا آغاز کردیا

حا ئیڈرا کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے کہا کہ صفائی کا کام دو سے تین دنوں میں مکمل ہونے کی امید ہے اور ایراکنٹہ جھیل کا دوبارہ احیا کرنے کے منصوبہ کامیاب ثابت ہوگا اور مقامی لوگ ان کوششوں کا خیرمقدم کررہے ہیں۔

حیدر آباد: متعدد مسماری مہموں اور عوام میں خوف و ہراس کے بعد حائیڈرا نے اپنی توجہ جھیلوں پر مرکوز کر دی۔ حا ئیڈرا نے اعلان کیا کہ اس نے حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے آبی ذخائر کو از سر نو طور پر احیا کرنے کے ابتدائی کام شروع کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

 ایک بیان  میں، اس نے کہا کہ حیدرآباد میں جھیلوں سے تجاوزات ہٹانے کے بعد، اس نے آبی ذخائر کو از سر نو احیا کرنے کی طرف توجہ مرکوز کی ہے۔ حا ئیڈرا  نظام پیٹ میونسپلٹی میں ایراکونٹا جھیل سے اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔

حا ئیڈرا کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے کہا کہ صفائی کا کام دو سے تین دنوں میں مکمل ہونے کی امید ہے اور ایراکنٹہ جھیل کا  دوبارہ احیا کرنے کے منصوبہ کامیاب ثابت ہوگا اور مقامی لوگ ان کوششوں کا خیرمقدم کررہے ہیں۔

حائیڈرا نے عوام کو یقین دلایا کہ تمام رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس جو قانونی طور پر درست اجازت نامے رکھتے ہیں، انہیں جھیلوں کے قریب ممکنہ انہدامات کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایجنسی نے وضاحت کی کہ ایسی رپورٹس جو قانونی طور پر منظور شدہ ڈھانچوں کو منہدم کرنے کا اشارہ دیتی ہیں، وہ غلط ہیں۔

حائیڈرا نے مزید کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ کسی بھی ایسے ڈھانچے کو نہیں گرائے گی جس کے پاس درست اجازت نامہ ہو، اور ایجنسی اس ہدایت کی سختی سے پیروی کرے گی۔