حیدرآباد

سنم چیروو کے قریب دہائیوں پرانے غیر قانونی آبی کاروبار کے خلاف HYDRAA کی کارروائی

حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹس پروٹیکشن ایجنسی (HYDRAA) نے سنام چیروو کے قریب غیر قانونی طور پر زیرِ زمین پانی نکالنے اور فروخت کرنے کے مبینہ کاروبار کے خلاف بڑی کارروائی انجام دی۔ اس دوران رہائشی جائیدادوں سے بورویل کے پانی کو نکالنے اور فروخت کرنے کے لیے بچھائی گئی غیر قانونی پائپ لائنوں کو ہٹایا گیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹس پروٹیکشن ایجنسی (HYDRAA) نے سنام چیروو کے قریب غیر قانونی طور پر زیرِ زمین پانی نکالنے اور فروخت کرنے کے مبینہ کاروبار کے خلاف بڑی کارروائی انجام دی۔ اس دوران رہائشی جائیدادوں سے بورویل کے پانی کو نکالنے اور فروخت کرنے کے لیے بچھائی گئی غیر قانونی پائپ لائنوں کو ہٹایا گیا۔

یہ کارروائی ریونیو ڈپارٹمنٹ اور چندانگر میونسپل کارپوریشن (CMC) کے عہدیداروں کی موجودگی میں انجام دی گئی۔ کارروائی کے دوران امن و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری جمعیت بھی تعینات رہی۔

آلودگی کے خطرے پر تشویش

HYDRAA کے کمشنر اے وی رنگاناتھ نے خبردار کیا کہ گندے پانی اور کچرے سے بھرے علاقوں سے گزرنے والی پائپ لائنیں زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے کا سنگین خطرہ پیدا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں میں معمولی دراڑیں بھی سیوریج کے پانی اور دیگر آلودہ مادوں کو پانی کی سپلائی میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں، جس سے عوام کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

غیر صحت بخش ماحول میں بچھائی گئی غیر مجاز پائپ لائنوں کے ذریعے پانی کی سربراہی کے معاملے نے پانی کے معیار اور عوامی صحت کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

غیر قانونی پانی کی سربراہی کے خلاف کارروائی

HYDRAA کی یہ کارروائی آبی وسائل کے تحفظ اور عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی کوششوں کا حصہ ہے۔

حکام کے مطابق، غیر مجاز طریقے سے زیرِ زمین پانی نکالنے اور فروخت کرنے کے خلاف کارروائی ضروری ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور صاف پانی فراہم کیا جاسکے۔

اس غیر قانونی نیٹ ورک کی وسعت اور اس میں ملوث افراد کے خلاف مزید کارروائی سے متعلق تفصیلات کا انتظار ہے۔