کھیل

صرف ون ڈے ورلڈ کپ ہی نہیں بلکہ روہت اور کوہلی کو زیادہ عرصے تک کھیلتے دیکھنا چاہتا ہوں عرفان پٹھان

عرفان پٹھان نے روہت اور کوہلی کے 2027 مینز ورلڈ کپ میں کھیلنے کے حوالے سے کہا کہ’’آپ یقیناً 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کے بارے میں سوچیں گے۔ یہ ابھی کچھ دور ہے، لیکن میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ روہت اور کوہلی دونوں کو زیادہ عرصے تک ہندوستان کے لیے کھیلتے دیکھوں

نئی دہلی : ہندوستان سال 2026 کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف گھریلو وائٹ بال چیلنج سے کرے گا، جس کا آغاز تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے ہوگا، جس میں روہت شرما اور وراٹ کوہلی ایک بار پھر ہندوستانی جرسی میں نظر آئیں گے۔ ’’فالو دی بلیوز‘‘ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جیو اسٹار کے ماہرین عرفان پٹھان اور ورون آرن نے زیادہ ون ڈے اور ٹرائی سیریز کی ضرورت، روہت اور کوہلی کے ون ڈے کیریئر کو طویل کرنے کی اہمیت اور نئے کپتان شبھمن گل سے وابستہ بڑھتی توقعات پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں
روہت اور کوہلی کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا چاہئے:گمبھیر
ہمیں اسٹارکلچر ختم کرنا ہوگا:عرفان پٹھان (ویڈیو)
ویراٹ کوہلی کے گڑھ میں روہت شرما کے نام کے نعرے لگ گئے
نیوزی لینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز کیلئے ٹیم انڈیا کا اعلان، محمد سمیع کی واپسی میں مزید تاخیر
دھونی، ہندوستان کے سب سے کامیاب کپتان: گیل

عرفان پٹھان نے روہت اور کوہلی کے 2027 مینز ورلڈ کپ میں کھیلنے کے حوالے سے کہا کہ’’آپ یقیناً 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کے بارے میں سوچیں گے۔ یہ ابھی کچھ دور ہے، لیکن میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ روہت اور کوہلی دونوں کو زیادہ عرصے تک ہندوستان کے لیے کھیلتے دیکھوں، اور جب وہ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیل رہے ہوں تو گھریلو کرکٹ میں بھی نظر آئیں۔ وہ اس وقت صرف ایک فارمیٹ کھیل رہے ہیں، اس لیے جتنا زیادہ کھیلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔‘‘

ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر شبھمن گل کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے عرفان پٹھان نے کہا کہ ’’جب میں پہلی بار 19 سال کی عمر میں منتخب ہوا تھا تو راہول ڈریوڈ نے کہا تھا کہ ’عرفان، یہاں تک پہنچنا اچھی بات ہے، لیکن اب چیزیں اور مشکل ہوں گی‘ جب میں نے ان سے پوچھا کہ اگر حالات مشکل ہو جائیں تو کیا کرنا چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ ’تم اسے سنبھالنا سیکھ جاؤ گے‘ شبھمن گل کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ انگلینڈ کے دورے پر ایک اچھی بات یہ رہی کہ ان کا ٹیسٹ اوسط بہتر ہوا اور ٹیم پر ان کا اثر بھی بڑھا۔ اب ون ڈے میں بھی ان پر ذمہ داری ہے اور یہ ان کے لیے آگے بڑھنے کا ایک بہترین موقع ہے۔‘‘

شبھمن گل کا موازنہ وراٹ کوہلی سے کیے جانے پر عرفان پٹھان نے کہا کہ’’وہ بہت باصلاحیت ہیں، اس میں کوئی شک نہیں اور ان کا موازنہ ہونا فطری ہے۔ وراٹ کوہلی کا موازنہ بھی مسلسل سچن تندولکر سے کیا جاتا تھا اور ان سے اسی معیار پر کارکردگی کی توقع رکھی جاتی تھی۔ اب جب کوہلی اس مقام تک پہنچ چکے ہیں تو گل کا موازنہ ان سے کیا جا رہا ہے۔

توقعات یہی ہیں کہ وہ ان معیارات پر پورا اتریں اور 25 سے 30 ہزار رنز بنائیں، اور ان میں یقیناً اس کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘

ورون آرن نے وراٹ کوہلی اور روہت شرما کو ’’باکس آفس‘‘ کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں زبردست بھیڑ اور ویورشپ کھینچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ایک باکس آفس سیریز تھی، جب وراٹ اور روہت دونوں فارم میں تھے اور یہی صورتحال آسٹریلیا میں بھی رہی۔ ہندوستان چاہے گا کہ جتنی سیریز اس وقت ہو رہی ہیں، اس سے کہیں زیادہ ہوں، کیونکہ یہ دونوں کھلاڑی شائقین کی بڑی تعداد اور ویورشپ لے کر آتے ہیں۔‘‘

ورون آرن نے مزید کہا کہ’’ون ڈے میں کوہلی اور روہت کی کارکردگی شاندار ہے اور انہیں جب تک وہ چاہیں کھیلتے رہنا چاہیے۔ آخرکار آپ یہی چاہتے ہیں کہ روہت اور وراٹ زیادہ سے زیادہ کھیلیں۔ بہت سے لوگ اس بات سے ناراض ہیں کہ وہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی نہیں کھیل رہے، لیکن جس انداز میں وہ ون ڈے میں کھیل رہے ہیں وہ لاجواب ہے۔ روہت شرما نے فٹنس کے معاملے میں خود کو دوبارہ تیار کیا ہے اور وراٹ کوہلی نے آسٹریلیا میں آخری ون ڈے کے بعد غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عمر صرف ایک نمبر ہے، اصل چیز ذہنی مضبوطی ہے۔‘‘