تلنگانہ میں فرقہ پرست سرگرمیوں میں اضافہ تشویشناک قرار، یونائٹیڈ مسلم فورم کا سخت کارروائی کا مطالبہ
فورم کے ذمہ داران نے کہا کہ حالیہ واقعات نے اقلیتوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور حکومت کی جانب سے موثر اقدامات نہ ہونے سے شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔
تلنگانہ میں فرقہ پرست عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر یونائٹیڈ مسلم فورم نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی تنظیموں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ فورم کے ذمہ داران نے کہا کہ حالیہ واقعات نے اقلیتوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور حکومت کی جانب سے موثر اقدامات نہ ہونے سے شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔
فورم نے راجنا سرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ میں درگاہ شریف کی منتقلی کے نام پر کی جانے والی انہدامی کارروائی کو سخت الفاظ میں قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملہ میں فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ ایک خطرناک نظیر بن سکتی ہے۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹھوس اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کا اعتماد بحال کرے۔
ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ ٹاؤن میں پیش آئے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے فورم کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مسلم تاجروں کو منصوبہ بند طریقہ سے نشانہ بنایا گیا، ان کی دکانوں اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس کی موجودگی میں تشدد جاری رہا۔ فورم نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف کارروائی کے بجائے متاثرہ افراد کے خلاف مقدمات درج کرنا تشویشناک ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یادادری بھونگیر ضلع کے جلال پور میں مسجد کی بے حرمتی، محبوب نگر کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور حیدرآباد میں بعض جلوسوں کے دوران کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ فرقہ پرست عناصر ریاست میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ فورم نے الزام عائد کیا کہ نفرت انگیز مہم کے ذریعے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
فورم کے ذمہ داران نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون کو آئندہ بجٹ اجلاس میں پیش کرکے منظور کیا جائے۔ بانسواڑہ واقعہ کی آزادانہ تحقیقات، متاثرین کو معاوضہ، بے قصور افراد کی رہائی اور اصل شرپسندوں کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا گیا۔
یونائٹیڈ مسلم فورم نے ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے اور سماجی بھائی چارہ مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ نفرت پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں۔ فورم نے یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک کے پیش نظر آئمہ و موذنین کو جنوری اور فروری کے اعزازیے کی ادائیگی جلد کی جائے تاکہ انہیں عید کی تیاریوں میں سہولت ہو سکے۔