دہلی

آج رات انڈیا گیٹ تاریکی میں ڈوب جائے گا

ہ مہم ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے زیرِ اہتمام ہر سال منعقد ہوتی ہے اور اب یہ دنیا کی سب سے بڑی عوامی ماحولیاتی تحریک بن چکی ہے، جس میں 190 سے زائد ممالک اور خطوں کے لاکھوں افراد، ادارے اور تاریخی عمارتیں حصہ لیتے ہیں۔

نئی دہلی: دارالحکومت نئی دہلی کی تاریخی اور معروف یادگار انڈیا گیٹ آج ہفتہ کی رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک ایک گھنٹے کے لیے تاریکی میں ڈوب جائے گی۔ یہ اقدام ارتھ آور 2026 کے تحت کیا جا رہا ہے، جو ایک عالمی ماحولیاتی مہم ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔
پارلیمنٹ دراندازی کے ملزمین کو انڈیا گیٹ لے جایا گیا
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
اروند کجریوال،سرکاری قیامگاہ سے نئے بنگلے میں منتقل
کجریوال چند ہفتوں میں سرکاری بنگلہ خالی کردیں گے

اس سال ارتھ آور اپنی 20ویں سالگرہ منا رہا ہے اور اسے “Give an Hour for Earth” (زمین کے لیے ایک گھنٹہ دیں) کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے، جس میں اجتماعی کوششوں کے ذریعے زمین کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔

ارتھ آور کی شروعات 2007 میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے ہوئی تھی، جب پہلی بار علامتی طور پر ایک گھنٹے کے لیے روشنیاں بند کی گئیں۔ یہ مہم ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے زیرِ اہتمام ہر سال منعقد ہوتی ہے اور اب یہ دنیا کی سب سے بڑی عوامی ماحولیاتی تحریک بن چکی ہے، جس میں 190 سے زائد ممالک اور خطوں کے لاکھوں افراد، ادارے اور تاریخی عمارتیں حصہ لیتے ہیں۔

اس موقع پر ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے لیے غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھیں۔ حیدرآباد میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رات 8:30 سے 9:30 بجے تک غیر ضروری روشنیاں بند کر کے اس مہم میں فعال حصہ لیں۔

جی ایچ ایم سی کمشنر آر وی کرنن نے کہا کہ یہ صرف توانائی کی بچت کا عمل نہیں بلکہ ایک علامتی قدم ہے جو ہمیں ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کے مطابق، “ہر چھوٹا قدم اہمیت رکھتا ہے، اگر ہم صرف ایک گھنٹہ زمین کے لیے وقف کریں تو ہم ایک مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔”

بھارت سمیت دنیا بھر میں مشہور یادگاریں، عوامی مقامات اور گھروں میں بھی اس علامتی اقدام کے تحت روشنیاں بند کی جائیں گی، تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

گزشتہ برس بھی انڈیا گیٹ، راشٹرپتی بھون اور دیگر قومی یادگاروں نے اس مہم میں حصہ لیا تھا، جس سے اس مہم کی ثقافتی اور سماجی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق ارتھ آور صرف ایک علامتی قدم نہیں بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری نبھانا ضروری ہے، جس میں توانائی کے کم استعمال اور ماحول دوست پالیسیوں کی حمایت شامل ہے۔