حیدرآباد

بھارت نے اتحاد اور یکجہتی کی سچائی کی عکاسی کی: موہن بھاگوت

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اپنے ہی لوگوں کی رہنمائی پر ہونی چاہئے جو الجھنوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس سربراہ نے لوک منتھن کو دیہی علاقوں تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نچلی سطح کی آوازوں کو سنا جاسکے۔

حیدرآباد: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ جہاں دنیا بغیر سوچے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے، وہیں بھارت نے ہمیشہ سے ہی گہرائی کے ساتھ سچائی اور اتحاد و یگانگت کی عکاسی کی ہے۔ لوک منتھن بھاگیہ نگر 2024ء میں خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہاکہ بھارت نے  دھرم کے لازوال تصورات اور زندگی کی تخلیق پر گہرا تناظر قائم کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اپنے ہی لوگوں کی رہنمائی پر ہونی چاہئے جو الجھنوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس سربراہ نے لوک منتھن کو دیہی علاقوں تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نچلی سطح کی آوازوں کو سنا جاسکے۔ نمائندہ منصف کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا  ہمارے آباو اجداد نے تخلیق کے اصولوں پر عمل کیا۔

اب ایسا نہیں ہے۔ ہم دھرم سے زیادہ ادھرم پر عمل کر رہے ہیں۔ سماج میں خود غرضی بڑھ گئی ہے۔ دھرم کہاں چلا گیا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟ بھاگوت نے کہا کیا دھرم سائنس اور علم کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکے گا؟ انہوں نے کہا  دھرم کا انحصار اس شخص پر رہے گا جو سائنس یا علم کا استعمال کرتا ہے۔

ہر کسی کو دھرم کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اسے سیکھنے کے لیے ہماری کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے  موہن بھاگوت نے کہا  کہ انگریز اور دیگر غیر ملکی ہندوستان آئے اور ہندوستانی ثقافت کو تباہ کیا، لیکن قوم بچ گئی۔

 ہمارے آباؤ اجداد کو بتایا گیا تھا کہ مادی زندگی کیسے گزاری جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی روحانی راستہ اختیار کرے گا تو دھرم برقرار رہے گا۔  انہوں نے کہا اتحاد ابدی ہے۔ تنوع میں بھی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا مصنوعی ذہانت اور اخلاقیات کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ دماغ اور دل پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کے بارے میں ایک پالیسی ہونی چاہئے۔