کسانوں کے ساتھ ناانصافی ناقابل برداشت — چناکا۔کوراٹا پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر پر کلواکنٹلہ کویتا کی شدید تنقید
تلنگانہ جاگروتی کی صدر و بی آر ایس قائد کلواکنٹلہ کویتا نے آج ضلع عادل آباد کے چناکا۔کوراٹا پراجیکٹ کا معائنہ کیا اور پراجیکٹ کے کاموں میں تاخیر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی کر رہی ہے۔
عادل آباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر و بی آر ایس قائد کلواکنٹلہ کویتا نے آج ضلع عادل آباد کے چناکا۔کوراٹا پراجیکٹ کا معائنہ کیا اور پراجیکٹ کے کاموں میں تاخیر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی کر رہی ہے۔
کویتہ نے کہا کہ یہ پراجیکٹ کسانوں کی زندگیوں سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، لیکن موجودہ کانگریس حکومت نے اس کی تکمیل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں پراجیکٹ کے 90 فیصد کام مکمل کر لیے گئے تھے اور اس کے لیے دو ہزار کروڑ روپئے مختص کیے گئے تھے، مگر موجودہ حکومت نے بجٹ میں 179 کروڑ روپئے مختص کرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب بی آر ایس نے 90 فیصد کام مکمل کیا، تو کانگریس حکومت باقی 10 فیصد کام کیوں مکمل نہیں کر پا رہی؟ کسانوں کو آج بھی پانی کی شدید ضرورت ہے، مگر پراجیکٹ کی نہروں سے بہنے والا پانی فصلوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
صدرِ جاگروتی نے الزام لگایا کہ کسانوں کے مسائل پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان “میچ فکسنگ” چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے بی جے پی ایم ایل اے بھی پراجیکٹ اور کسانوں کے مسائل پر لب کشائی نہیں کر رہے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ بی آر ایس حکومت نے کسانوں کے مفاد میں جو اچھے اقدامات کیے، انہیں وہ تسلیم کرتی ہیں، لیکن موجودہ حکومت کی لاپرواہی کسانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا کی سمت 1500 ایکڑ زمین کے حصول کا کام ابھی باقی ہے، جبکہ وہاں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ مہاراشٹرا کی جانب حفاظتی دیوار تعمیر ہو چکی ہے مگر تلنگانہ کی طرف ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہوا۔
کویتہ نے افسوس ظاہر کیا کہ یہ پراجیکٹ سیاسی اختلافات کی نذر ہو گیا ہے، حالانکہ یہ عوامی مفاد سے وابستہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بقیہ 10 فیصد کام مکمل کرے، متاثرہ کسانوں کو معاوضہ دے اور پراجیکٹ کو جلد از جلد فعال بنائے تاکہ زرعی اراضی کو پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے تاخیر جاری رکھی تو تلنگانہ جاگروتی ریاست گیر احتجاجی تحریک شروع کرے گی تاکہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔