حیدرآبادجرائم و حادثات

لنگر ہاؤس میں پتنگ بازی پر شدید تنازع، پتھر بازی میں پولیس کانسٹیبل زخمی

اس لنگر ہاؤس پتنگ بازی واقعہ کے بعد مقامی لوگوں میں سخت غصہ پایا جا رہا ہے اور ملوث افراد کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد کے لنگر ہاؤس علاقے میں پتنگ بازی کے تنازع نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب دو گروپوں کے درمیان جھگڑا پرتشدد تصادم میں بدل گیا اور ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس کانسٹیبل شدید زخمی ہو گیا۔ یہ واقعہ لنگر ہاؤس پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں عوامی تحفظ اور پولیس اہلکاروں کی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اس لنگر ہاؤس پتنگ بازی واقعہ کے بعد مقامی لوگوں میں سخت غصہ پایا جا رہا ہے اور ملوث افراد کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق، پتنگ اڑانے کے معاملے پر دو مقامی گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں تبدیل ہو گئی۔ رہائشی علاقے میں اچانک جھگڑا شروع ہوا اور اس دوران پتھراؤ بھی کیا گیا۔ اسی دوران گشت پر مامور کانسٹیبل محمد علیم الدین کو ایک پتھر ناک پر لگا، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گئے۔

زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر رینووا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی ناک میں شدید فریکچر کی تصدیق کی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انہیں سرجری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور ان کی حالت مستحکم مگر نازک بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے امن و امان کی ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو درپیش خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے دونوں گروپوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں اور ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سینئر پولیس افسران نے کہا کہ اس طرح کا تشدد کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، خاص طور پر جب اس سے پولیس اہلکاروں اور عوامی امن کو خطرہ لاحق ہو۔

اس واقعے پر مقامی رہائشیوں اور سماجی حلقوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور زخمی کانسٹیبل کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام نے پتنگ بازی سے جڑے تنازعات کو پرتشدد ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اور لنگر ہاؤس میں امن و امان کی بہتر عمل داری پر زور دیا ہے۔

لنگر ہاؤس میں پیش آیا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گلی محلوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے اور شہریوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔