جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان وقفہ
حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ جمعہ کے دن ایک وقت ایسا ہے کہ اس وقت جو دعاء کی جائے ان شاء اللہ وہ قبول کی جائے گی؛ لیکن یہ کون سا وقت ہے، اس سلسلہ میں احادیث وآثار صحابہ کو سامنے رکھتے ہوئے دو اوقات کا ذکر کیا گیا ہے،
سوال: کیا یہ بات سچ ہے کہ جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان کاوقت دعاء کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے؟ لہٰذا جمعہ کے دو خطبوں کے دوران خطیب کو زیادہ سے زیادہ کتنی دیر بیٹھنے کی اجازت ہے،
کسی نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ اتنی دیر منبر پر خطیب کو بیٹھنا چاہئے ، جتنا وقت تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے میں لگتا ہے، اور اس سے زیادہ وقت قیام کی اجازت نہیں ہے،
مگر اتنی مختصر مدت میں دعائیں کیسے کی جا سکتی ہیں؛ لہٰذا کیا خطیب ایک سے دو منٹ دو خطبوں کے درمیان بیٹھ سکتا ہے؛ تاکہ سب لوگ اپنی مختصر دعاء کر سکیں۔ (مبشر احمد، ملك پیٹ)
جواب: حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ جمعہ کے دن ایک وقت ایسا ہے کہ اس وقت جو دعاء کی جائے ان شاء اللہ وہ قبول کی جائے گی؛ لیکن یہ کون سا وقت ہے، اس سلسلہ میں احادیث وآثار صحابہ کو سامنے رکھتے ہوئے دو اوقات کا ذکر کیا گیا ہے،
ایک: خطیب کے خطبہ کے لئے نکلنے سے لے کر نماز کے مکمل ہونے تک
دوسرے: دن کے آخری حصہ میں، یعنی غروب آفتاب سے پہلے تک؛ اس لئے ان دونوں اوقات میں دعاء کا اہتمام کرنا چاہئے؛
البتہ دعاء زبان سے بھی ہوسکتی ہے اور دل سے بھی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ دل کی آواز بھی سنتا ہے ،اور اس طرح دعاء ہر وقت کی جا سکتی ہے،
رہ گیا دو خطبوں کے درمیان کا وقفہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک اس موقع پر تھوڑی ہی دیر بیٹھنے کا تھا، احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ تین آیت پڑھنے کی مقدار بیٹھنا چاہئے: وظاھر الروایۃ مقدار ثلاث آیات وھو المذھب وتارکھا مسئی فی الأصح.. (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ۵۱۶)