حیدرآباد

اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد

س تقریب میں آٹھ مختلف شعبہ جات کے طلبہ نے متاثر کن پرفارمنس کے ذریعے اقراء مشن کے سفر کی عکاسی کی

حیدرآباد: اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، نواب صاحب کنتہ—جو ۱۹۸۶ء میں قائم کیا گیا تھا—نے اپنی تعلیمی خدمات کے ۴۰ سال مکمل ہونے پر دو روزہ ‘روبی جوبلی’ تقریب کا شاندار انعقاد کیا۔ یہ جشن ۳۱ جنوری اور یکم فروری ۲۰۲۶ء کو شامہ پیلس میں منایا گیا۔

متعلقہ خبریں
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول و جونیر کالج میں "تحریکِ آزادی کے گمنام سپاہی” کے عنوان سے منفرد نمائش کا انعقاد
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں

اس تقریب میں آٹھ مختلف شعبہ جات کے طلبہ نے متاثر کن پرفارمنس کے ذریعے اقراء مشن کے سفر کی عکاسی کی۔ پروگرام میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح اس ادارے نے کم آمدنی والے والدین کو بااختیار بنایا تاکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیمی اور اخلاقی میدان میں بہترین مقام پر پہنچا سکیں۔

یہ موقع سینکڑوں سابقہ طلبہ (Alumni) کے لیے ایک یادگار ری یونین ثابت ہوا، جہاں انہوں نے اپنے اساتذہ سے ملاقات کی اور پرانی یادیں تازہ کیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سابقہ طلبہ کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پوری تقریب کو براہِ راست (Live Stream) نشر کیا گیا، جس سے وہ اس تاریخی سنگ میل کا حصہ بن سکے۔

اس خاص موقع پر ادارے کے لیے طویل عرصے تک گراں قدر اور مخلصانہ خدمات انجام دینے والے سینئر اساتذہ اور اسٹاف ممبران کی گلپوشی اور تہنیت کی گئی۔

بانیِ ادارہ، ڈاکٹر محمد ساجد علی نے کمیونٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ان کے ‘دین اور دنیا’ کی جامع تعلیم کے تصور کو سمجھا اور اسے بھرپور تعاون فراہم کیا۔

تقریب کے معزز مہمانوں میں اقراء مشن کی سابقہ طالبہ نسیم بانو بھی شامل تھیں، جنہوں نے حال ہی میں گروپ-I کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی اور اسسٹنٹ کمشنر آف کمرشل ٹیکس کے عہدے پر فائز ہوئیں۔

اس تقریب کی کامیابی میں محمد صفدر علی اور محمد شجاعت علی کی انتھک محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے بہترین استعمال کا کلیدی کردار رہا۔ روبی جوبلی کی ان تقریبات نے، خاص طور پر پرانے شہر حیدرآباد میں، اسکولی پروگراموں میں ٹیکنالوجی کے انضمام کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔