آبنائے ہرمز کی تجویز پر ایران کو امریکہ کے سرکاری جواب کا انتظار: عراقچی
ایران کو آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کی تجاویز پر امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار ہے، جو ثالثوں کے ذریعے دیا جانا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہی۔
تہران: ایران کو آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کی تجاویز پر امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار ہے، جو ثالثوں کے ذریعے دیا جانا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہی۔
ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 7 روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔
عراقچی نے ایرانی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے بیان میں، جو ان کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا، کہا کہ ”ہم نے امریکی صدر کا ابتدائی ردعمل دیکھا ہے۔ تاہم، ثالثوں کے ذریعے ہمیں ابھی تک کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔
” ایرانی وزیر نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے بہت سے متضاد بیانات دیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہاکہ ”ہم ثالثوں کی جانب سے حتمی موقف کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر اپنے فیصلے کریں گے۔” انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے سلسلے میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط پوری کرنے پر ہوگا۔
جون کے وسط میں امریکہ اور ایران نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد امن معاہدہ طے کرنے کے عمل کا آغاز کرنا تھا۔ تاہم، 3 ہفتے بعد کشیدگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔
واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ فی الحال آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بند ہے۔