مشرق وسطیٰ

ایران فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا ہے: عراقچی

28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیےتھے، جس سے شہریوں کو نقصان اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سرزمین اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

ماسکو: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک کے حکام اس وقت خطے میں تنازعات کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے ہیں، ایرانی ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں
ٹرمپ کی ریلی میں پھر سکیورٹی کی ناکامی، مشتبہ شخص میڈیا گیلری میں گھس گیا (ویڈیو)
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
249واں جشنِ آزادی امریکہ: دنیا کی قدیم جمہوریت کا سفر اور ہند-امریکہ تعلقات کی مضبوطی
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی

عراقچی نے کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو پیغامات پہنچاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات جاری ہیں۔


24 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔

امریکی صدر نے کہا تھاکہ مذاکراتی عمل اتوار کو دوبارہ شروع ہوا اور اس نے تنازع کو حل کرنے کے لیے تہران کے سنجیدہ ارادے کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔


28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیےتھے، جس سے شہریوں کو نقصان اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سرزمین اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔


امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا "پہلے سے” حملہ ضروری تھا، لیکن انہوں نے جلد ہی واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔