بین الاقوامی

اسرائیل کے نیوکلیئر پلانٹ کے قریب ایران کا مزائل حملہ، 200 افراد زخمی

اسرائیل کے دیمونا اور ارد علاقوں پر ایرانی حملوں میں تقریباً200 افراد زخمی ہوئے جن میں 11 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اسرائیلی ایرڈیفنس کم از کم 2 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روک نہیں سکا۔

یروشلم/قاہرہ(آئی اے این ایس/ اے پی) اسرائیل کے دیمونا اور ارد علاقوں پر ایرانی حملوں میں تقریباً200 افراد زخمی ہوئے جن میں 11 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اسرائیلی ایرڈیفنس کم از کم 2 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روک نہیں سکا۔

مقامی میڈیا نے اتوار کے دن یہ اطلاع دی۔ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور اسرائیلی ڈیفنس فورسس کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اعلان کیا کہ اسرائیل ایرانی دشمنوں سے تمام محاذوں پر لڑتا رہے گا۔ بعد ازاں آئی ڈی ایف نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ ایرانی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے تہران پر حملے کررہی ہے۔

اے پی کے بموجب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو پوری طرح نہیں کھول دیا تو امریکہ ایران کے برقی پلانٹس کو مٹادے گا۔

اسی دوران اسرائیل کے مین نیوکلیئر ریسرچ سنٹر کے قریب 2شہروں میں ایرانی میزائل گرے۔ کئی افراد زخمی ہوئے اور اپارٹمنٹ بلڈنگس کو نقصان پہنچا۔ یہ پیشرفت مشرق وسطیٰ جنگ کے خطرناک نئی سمت میں جانے کا اشارہ دیتی ہے۔ جنگ اب چوتھے ہفتہ میں داخل ہوگئی ہے۔

اتوار کی صبح اسرائیل میں سائرن بجنے لگے کہ ایران سے میزائل آرہے ہیں۔ جنوبی شہروں دیمونا اور ارد میں بڑی تباہی مچی۔ ٹرمپ نے ہفتہ کے دن کہا کہ وہ ایران کو 48گھنٹوں کی مہلت دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے یا پھر حملوں کے نئے دور کا سامنا کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف برقی پلانٹس کو تباہ کردے گا اور اس کی شروعات سب سے بڑے پلانٹ سے ہوگی۔

ٹرمپ کا اشارہ شائد بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی طرف ہے جو ایران کا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔ اس پر گزشتہ ہفتہ حملہ ہوا تھا۔ ایران نے آج صبح خبردار کیا کہ اس کی توانائی تنصیب پر کسی بھی حملہ کا جواب امریکہ اور اسرائیل کے توانائی اور انفرااسٹرکچر پر حملوں کے ذریعہ دیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ خطہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی اور سمندر کے کھارے پانی کو استعمال کے لائق بنانے کے پلانٹس کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

آبنائے ہرمز جو خلیج فارس کو دنیا کے دیگر سمندروں سے جوڑتی ہے اہم بحری گذرگاہ ہے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے ایران کے مستقل کے نمائندہ سید علی موسوی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے دشمنوں کو چھوڑ کر کسی بھی ملک کے جہاز گذر سکتے ہیں۔ ایران چین اور ایشیاء کے دیگر ممالک جانے والے جہازوں کو اس کی اجازت دے چکا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دیمونا اور ارد پر میزائل حملوں کو روک نہیں سکی۔ پہلی مرتبہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی ایر ڈیفنس سسٹم کو چکمہ دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ اسرائیل کا کڑے پہرے والے دیمونا علاقہ کو بچانے میں ناکام رہنا بتاتا ہے کہ جنگ نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔

بچاؤ کارکنوں کا کہنا ہے کہ 64افراد کو دواخانہ لے جایا گیا۔ اسرائیل کے سخت گیر وزیرقومی سلامتی بن گوئر نے ارد ٹاؤن کا اتوار کے دن دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف تاریخی جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ کو جیت حاصل ہونے تک جاری رہنا چاہئے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں حالانکہ اس کے قائدین نہ تو اس کی تردید کرتے ہیں اور نہ تصدیق۔

اقوام متحدہ کے نیوکلیئر نگراں ادارہ نے ایکس پر کہا کہ اسے اسرائیلی نیوکلیئر سنٹر کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ جنگ میں ایران میں تاحال 1500 اموات ہوئی ہیں جبکہ اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔ مقبوضہ مغربی کنارہ میں 4 جانیں گئیں۔ امریکہ کے کم از کم 13 فوجی ہلاک ہوئے۔