تلنگانہ

محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں نے دریائے گوداوری کے پانی کورنگانائک ساگر میں چھوڑا

نظر سابق وزیرہریش راو نے ریاستی حکومت سے خواہش کی تھی کہ وہ اننت ساگراورمڈمانیر سے 1.5ٹی ایم سی پانی کو لفٹ کروائے تاکہ کسانوں کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں نے اننت ساگرریزروائر سے دریائے گوداوری کے پانی کولفٹ کرتے ہوئے رنگانائک ساگر میں چھوڑنے کے کام کا آغاز کیا۔تین پمپس کو چلاتے ہوئے جمعرات کی صبح 8.30بجے یہ پانی لفٹ کیاگیا۔عہددار، رنگانائک ساگر کو ایک ٹی ایم سی فیٹ پانی آئندہ تین دنوں تک لفٹ کروانے کا کام کریں گے۔

متعلقہ خبریں
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

اس پراجکٹ کی مکمل گنجائش 3ٹی ایم سی فیٹ کے برخلاف 1.5ٹی ایم سی پانی ہے۔چونکہ سدی پیٹ میں ربیع کے موسم میں دھان کی پیداوار کاکام ہورہا ہے اسی کے پیش نظر سابق وزیرہریش راو نے ریاستی حکومت سے خواہش کی تھی کہ وہ اننت ساگراورمڈمانیر سے 1.5ٹی ایم سی پانی کو لفٹ کروائے تاکہ کسانوں کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے۔