مشرق وسطیٰ

اسرائیلی فوجی نے نماز کے دوران فلسطینی پر گاڑی چڑھا دی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایک مسلح شخص کی جانب سے ایک فلسطینی کو گاڑی سے کچلنے کی فوٹیج موصول ہوئی ہے۔ مذکورہ شخص ایک ریزرو فوجی تھا، تاہم اس کا فوجی کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ہے۔

غزہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی نے بربریت کی انتہاء کرتے ہوئے سڑک کنارے نماز ادا کرنے والے فلسطینی پر گاڑی چڑھا دی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری, عمارتیں ڈھیر


غیر ملکی ذرائع کے مطابق فوجی اہلکار کی پشت پر حملے کے وقت رائفل لٹکی ہوئی تھی، جس نے سڑک کنارے نماز ادا کرنے والے ایک فلسطینی شخص کو اے ٹی وی گاڑی سے روند دیا۔


اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایک مسلح شخص کی جانب سے ایک فلسطینی کو گاڑی سے کچلنے کی فوٹیج موصول ہوئی ہے۔ مذکورہ شخص ایک ریزرو فوجی تھا، تاہم اس کا فوجی کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ہے۔


اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ واقعے کے بعد اس شخص سے اسلحہ ضبط کر لیا گیا، کیونکہ اس نے اپنے اختیارات کی سنگین خلاف ورزی کی۔


سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی شخص گاڑی فلسطینی شخص پر چڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر جاتا ہے۔


ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شہری لباس میں ملبوس فوجی فلسطینی شخص پر چیختا ہے اور اشاروں سے اسے وہاں سے چلے جانے کو کہتا ہے۔


‘ٹرمپ جلد ہی غزہ کی ‘امن کونسل’ اور ‘حکومت’ کا اعلان کر سکتے ہیں’


حملے کے بعد فلسطینی شخص کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں اسے گھر بھیج دیا گیا کیونکہ وہ بظاہر زخمی نہیں ہوا تھا۔