تلنگانہ

کے ٹی راما راؤ کی کانگریس حکومت پر تنقید: کسانوں کی مشکلات اور ریاستی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کا الزام

انہوں نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوۓ کہا دسہرہ اور دیوالی دونوں تہواروں کے لیے ریاستی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات اور پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

حیدرآباد: زرعی اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے پر کانگریس حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے پیر کے روز تلنگانہ کے کسانوں کو نظر انداز کرنے پر سوال اٹھایا جنہیں دھان کی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

انہوں نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوۓ کہا دسہرہ اور دیوالی دونوں تہواروں کے لیے ریاستی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات اور پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

کسان پچھلے کچھ دنوں سے خریداری مراکز پر اپنے دھان کی فروخت کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن حکام کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں انہوں نے کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے کہا دھان کی خریداری کو تیز کرنے میں حکومت کی پہل میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے صرف جھوٹے وعدوں اور تبدیلی کے ہتھکنڈوں سے کام چلا رہی ہے۔ ایکس پر پوسٹس کی ایک سلسلہ میں، بی آر ایس کے کار گزار صدر نے ٹھیکیداروں اور کانگریس سے وابستہ گروپوں پر تلنگانہ کے قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کرنے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے ان کی حکمرانی کو "اسوکاسورا، باکاسورا اور بھسماسورا” کی بادشاہی سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا خرافاتی راکشسوں کو، بیک ڈور سودوں میں ملوث ہونے اور عوامی وسائل کے استحصال کے لیے عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

کے تی آر نے کہا دیہاتوں کو لوٹا جا رہا ہے اور دن دیہاڑے ریت کی غیر قانونی اسمگلنگ کی جا رہی ہے انہوں نے مبینہ طور پر ریت کے ذخیرے کے سیاہ سودے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تباہ کن معاشی پالیسیاں’ جس کی وجہ ریاست کی ترقی کو غیر مستحکم ہو گیی ہے گزشتہ دس مہینوں میں کانگریس کی بدترین کارکردگی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا ہمارے نظریات سے ریاست میں دولت پیدا کرنے کے راصرعہ تلاش کیا ۔ مگر اقتدار سنبھالنے کے 10 ماہ سے بھی کم عرصے میں کانگریس نے ریاست کو تباہ کر دیا۔

ان کے فیصلوں نے ریاستی وسائل کو ٹھپ کر دیا ہے انہوں نے مزید کہا، خالی رجسٹریشن دفاتر اور رئیل اسٹیٹ میں کمی اور ناقص مالیاتی انتظام کو ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کی غلط حکمرانی تلنگانہ کی سنہری وراثت کو داغدار کر رہی ہے۔