سوریہ پیٹ میں جاگروتی جنم باٹا پروگرام سے کویتا کا خطاب، پالمورو۔رنگا ریڈی معاملہ پر کانگریس حکومت پر سنگین الزامات
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ پالمورو۔رنگا ریڈی آبپاشی منصوبے کے معاملہ میں کانگریس حکومت نے اسمبلی میں کھلے عام کذب بیانی سے کام لیا ہے اور تلنگانہ کے آبی مفادات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
سوریہ پیٹ: صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ پالمورو۔رنگا ریڈی آبپاشی منصوبے کے معاملہ میں کانگریس حکومت نے اسمبلی میں کھلے عام کذب بیانی سے کام لیا ہے اور تلنگانہ کے آبی مفادات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ وہ اتوار کو سوریہ پیٹ ضلع میں جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت منعقدہ پریس میٹ سے خطاب کر رہی تھیں۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت واقعی صاف ہوتی تو کرشنا ندی کے پانی پر سنجیدہ اور جامع بحث کی جاتی، مگر اپیکس کونسل میں ہونے والی محدود بات چیت کو بنیاد بنا کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا ندی کے اصل اسٹیک ہولڈرز مہاراشٹرا، کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش ہیں، لیکن اسمبلی میں ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، جس سے تلنگانہ کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کرناٹک حکومت کی جانب سے الماٹی ڈیم کی اونچائی میں پانچ میٹر اضافہ کے فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجہ میں تلنگانہ کو 100 ٹی ایم سی سے زائد پانی کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ کویتا نے سوال کیا کہ اتنے سنگین مسئلہ پر نہ تو اسمبلی میں کوئی ٹھوس بحث ہوئی اور نہ ہی کانگریس حکومت نے الماٹی کی اونچائی میں اضافہ اور اپر بھدرا کو قومی درجہ دیئے جانے کے خلاف کوئی قرارداد منظور کی۔
کویتا نے کہا کہ متحدہ ریاست کے دور میں پالمورو۔رنگا ریڈی کے لیے 70 ٹی ایم سی اور نارائن پیٹ۔کوڑنگل کے لیے 7.5 ٹی ایم سی پانی مختص تھا، پھر بعد میں صرف 45 ٹی ایم سی پر دستخط کیوں کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ پالمورو کے عوام کے ساتھ کی جا رہی ناانصافی کو لوگ کبھی معاف نہیں کریں گے۔
اسمبلی میں پیش آئے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف کانگریس نے ڈرامہ کیا اور دوسری طرف بی آر ایس نے بھی سیاسی تماشہ رچایا۔ انہوں نے صرف ہریش راؤ پر تنقید کے بعد اسمبلی کا بائیکاٹ کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ عوام کی آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ کس کا تھا، اور اگر یہ فیصلہ کے سی آر یا کے ٹی آر کی جانب سے ہوا تو یہ تاریخ کی ناقابلِ معافی غلطی ہوگی۔
کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ کیا کرشنا ندی کے پانی میں تلنگانہ کا حصہ 37 فیصد سے کم کر کے 34 فیصد کرنے والے کسی معاہدے پر دستخط کیے گئے یا نہیں۔ اسی طرح جورالا سے سری سیلم تک ان ٹیک پوائنٹ میں تبدیلی، ایلور پمپ ہاؤس کو زیرِ زمین پمپ ہاؤس میں تبدیل کرنے پر 1400 کروڑ روپے خرچ کیے جانے، اور کلواکرتی لفٹ ایریگیشن میں موٹرس کی خرابی جیسے مسائل پر بھی وضاحت طلب کی۔
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کو دہشت گرد سے تشبیہ دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کے بغیر تلنگانہ کا وجود ممکن نہیں، اور ایسے قائد کے خلاف اس نوعیت کے بیانات قومی غداری کے مترادف ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بی آر ایس کی جانب سے اس بیان پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سوریہ پیٹ ضلع کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تنگا ترتی میں 100 بستروں کا اسپتال آج تک مکمل نہیں ہو سکا، بلکہ 30 بستروں کے اسپتال کو گرا کر 12 بستروں تک محدود کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو مرتبہ سنگ بنیاد رکھنے کے باوجود کام مکمل نہ ہونا بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ پلوں کی خستہ حالی، مشن بھاگیرتا کے تحت پانی کی عدم فراہمی، غیر قانونی ریت کی کانکنی، میونسپلٹی کا درجہ نہ ملنا، انٹیگریٹڈ مارکیٹ کی بدانتظامی اور دکانوں کے معاوضہ کی عدم ادائیگی جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع میں جھیلوں، مندروں اور سرکاری زمینوں پر قبضے کیے گئے ہیں، جن پر حیدرا (HYDRAA) اور مرکزی حکومت سے شکایت کی جائے گی۔ کویتا نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث عوامی مفاد متاثر ہو رہا ہے اور وہ بااثر عناصر کے خلاف بھی آواز اٹھاتی رہیں گی۔
آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ بی آر ایس دور میں کسانوں اور جہدکاروں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں، ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے معافی مانگ کر جنم باٹا پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ عوام کریں گے، لیکن وہ تلنگانہ کے عوام، خاص طور پر سوریہ پیٹ ضلع کے دس لاکھ لوگوں کے لیے مسلسل آواز اٹھاتی رہیں گی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی۔