تلنگانہ

پروفیسر وینکٹ راجیا کو کویتا کا خراج

کویتا نے کہا کہ پروفیسر راجیا ہمیشہ بی سی طبقات کے سیاسی عروج کے خواہاں رہے اور اس مقصد کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے رہے تاکہ نوجوانوں کے لیے ایک تحریک اور ترغیب بن سکیں۔

حیدرآباد: بی آر ایس کی سینئر لیڈر و رکن کونسل کویتا نے پروفیسر وینکٹ راجیا کی اچانک موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں
مہذب سماج میں تشدد اور دہشت گردی ناقابل قبول: پرینکا گاندھی
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی


کویتا نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پروفیسر راجیا کی موت تلنگانہ کے بی سی سماج کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پروفیسر نے تلگو، انگریزی، یوگا اور میڈی ٹیشن جیسے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں جو تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔


کویتا نے کہا کہ پروفیسر راجیا ہمیشہ بی سی طبقات کے سیاسی عروج کے خواہاں رہے اور اس مقصد کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے رہے تاکہ نوجوانوں کے لیے ایک تحریک اور ترغیب بن سکیں۔


انہوں نے پروفیسر راجیا کے ارکان خاندان سے تعزیت کااظہار کیا اورکہا کہ خدا ان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت دے۔