حیدرآباد

بس پاس کی شرحوں میں اضافہ کیخلاف  کویتا کی قیادت میں بس بھون کا محاصرہ، صدر تلنگانہ جاگروتی گرفتار

رکن کونسل کویتا نے بس بھون کا گھیراؤ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر حکومت کی بے حسی پر شدید تنقید کی۔ پولیس نے مظاہرہ کے دوران کویتا کو حراست میں لے لیا اور کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں آر ٹی سی بس پاس کی شرحوں میں بے تحاشہ اضافہ کیخلاف صدر تلنگانہ جاگروتی و رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا کی قیادت میں آج بس بھون کے سامنے شدید احتجاج منظم کیا گیا۔  احتجاج میں جاگروتی کے درجنوں کارکنوں نے حصہ لیااورحکومت کے  فیصلہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

رکن کونسل کویتا نے بس بھون کا گھیراؤ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر حکومت کی بے حسی پر شدید تنقید کی۔ پولیس نے مظاہرہ کے دوران کویتا کو حراست میں لے لیا اور کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔

اس موقع پر صدر تلنگانہ جاگروتی کویتا نے کہا کہ آر ٹی سی بس پاس کی شرحوں میں اضافہ عوام پر ایک بھاری بوجھ ہے۔ اس فیصلہ سے بالخصوص طلباء اور چھوٹے ملازمین پر شدید مالی بوجھ پڑے گا۔

 انہوں نے کہا کہ بس پاس کی قیمت میں اضافہ سے ایک عام مسافر پر ماہانہ تقریباً 300 روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔کویتا نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاست کے کئی علاقوں میں طلبہ کے لئے بسیں تک دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے تعلیمی سفر متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ مسلسل عوام کو لوٹنے کی عادی ہو چکی ہے۔انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوراً اضافی قیمتوں کو واپس لیا جائے اور عوام کو مالی بوجھ سے نجات دی جائے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت  اس فیصلہ پر نظرثانی نہیں کرتی ہے تو احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت پیدا کی جائے گی ۔