کے بی آر پارک فلائی اوور منصوبہ منسوخ، 3 ہزار درختوں کی کٹائی اور 300 کروڑ روپے کے خرچ پر سوالات
کے بی آر پارک کے اطراف مجوزہ فلائی اوور اور انڈر پاس منصوبے کو منسوخ کیے جانے کے بعد تلنگانہ حکومت کو ماحولیاتی کارکنوں اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے منصوبے کے سلسلے میں تقریباً 3 ہزار درختوں کی مبینہ کٹائی اور تقریباً 300 کروڑ روپے کے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
حیدرآباد: کے بی آر پارک کے اطراف مجوزہ فلائی اوور اور انڈر پاس منصوبے کو منسوخ کیے جانے کے بعد تلنگانہ حکومت کو ماحولیاتی کارکنوں اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے منصوبے کے سلسلے میں تقریباً 3 ہزار درختوں کی مبینہ کٹائی اور تقریباً 300 کروڑ روپے کے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر کے لیے مختلف کاموں پر تقریباً 300 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے تھے۔ منصوبہ اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی رقم کے استعمال اور منصوبہ بندی کے عمل پر وضاحت دی جانی چاہیے۔
ماحولیاتی کارکنوں نے درختوں کی کٹائی پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کے بی آر پارک کے اطراف بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے ماحول اور شہر کے سبزے کو نقصان پہنچا ہے۔ کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ منصوبہ منسوخ ہونے کے بعد کیا ان درختوں کو دوبارہ اگایا جاسکتا ہے؟
یہ منصوبہ حیدرآباد میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے کے بی آر پارک کے اطراف مختلف مقامات پر فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اب حکومت کی جانب سے اسے ترک کیے جانے کے بعد منصوبے کی ضرورت، لاگت اور ماحولیاتی اثرات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت پر جلد بازی میں فیصلے کرنے اور عوامی رقم ضائع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ منسوخ ہی کیا جانا تھا تو اس پر بھاری رقم خرچ کرنے اور درختوں کی کٹائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اس معاملے نے 2016 کے واقعات کو بھی دوبارہ بحث میں لا دیا ہے۔ اس وقت سابق بی آر ایس حکومت نے کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کرنے کی تجویز پر غور کیا تھا، لیکن ماحولیاتی کارکنوں کے اعتراضات اور تجاویز کے بعد مبینہ طور پر درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کیے بغیر منصوبے سے دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی۔
بعد ازاں موجودہ منصوبے کے خلاف ماحولیاتی کارکنوں نے ’سیو کے بی آر‘ (Save KBR) مہم کے تحت احتجاج کیا اور درختوں اور پارک کے ماحول کو نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے۔
اب منصوبہ منسوخ کیے جانے کے بعد ماحولیاتی کارکنوں اور عوام کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ ہزاروں درختوں کی کٹائی اور کروڑوں روپے کے اخراجات کے بعد منصوبے کو ترک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اس معاملے نے حیدرآباد میں شہری ترقی، ماحولیاتی تحفظ، درختوں کی کٹائی اور عوامی فنڈز کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔