تلنگانہ

کرناٹک کی جانب سے کرشنا کا پانی جاری نہ کرنے پر کسان پریشان، جورالہ ذخیرے میں صرف 4.5 ٹی ایم سی پانی باقی

سابقہ متحدہ محبوب نگر ضلع میں کسان کرشنا ندی کے پانی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ کرناٹک کے نارائن پور پروجیکٹ سے جورالہ پروجیکٹ کے لیے خاطر خواہ پانی جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے آبی ذخیرے میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔

محبوب نگر: سابقہ متحدہ محبوب نگر ضلع میں کسان کرشنا ندی کے پانی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ کرناٹک کے نارائن پور پروجیکٹ سے جورالہ پروجیکٹ کے لیے خاطر خواہ پانی جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے آبی ذخیرے میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔

جورالہ پروجیکٹ میں اس وقت تقریباً 4.5 ٹی ایم سی پانی باقی رہ گیا ہے، جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ فصلوں کو بچانے کے لیے کم از کم 5 سے 6 ٹی ایم سی پانی درکار ہے۔ پانی کی کمی کے باعث کھڑی فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

کسان تنظیموں کا الزام ہے کہ کرناٹک کی جانب سے نارائن پور پروجیکٹ سے جورالہ کے لیے مناسب مقدار میں پانی جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے کرشنا کے پانی پر انحصار کرنے والے کسانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔

تلنگانہ حکومت کا کہنا ہے کہ 24 ستمبر سے یکم اکتوبر کے درمیان نارائن پور سے جورالہ کی جانب تقریباً 27,600 کیوسک پانی جاری کیا گیا۔ تاہم کسان تنظیمیں اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتیں۔

کسان تنظیموں کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران جورالہ کو ملنے والا پانی بنیادی طور پر بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کی وجہ سے آیا، جبکہ نارائن پور پروجیکٹ کے گیٹ مناسب طور پر نہیں کھولے گئے۔

کسان تنظیموں کا مزید کہنا ہے کہ کرناٹک میں مقامی کسان تنظیمیں بھی جورالہ کی جانب پانی جاری کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں، جس کے باعث کرناٹک حکومت کی جانب سے پانی چھوڑنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

پانی کی قلت کے سبب متحدہ محبوب نگر ضلع کے مختلف علاقوں میں کاشت کی گئی فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو کھڑی فصلیں سوکھ سکتی ہیں اور انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کسان تنظیموں نے تلنگانہ اور کرناٹک حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال پر فوری توجہ دیں اور جورالہ پروجیکٹ کے لیے مطلوبہ مقدار میں کرشنا کا پانی جاری کرنے کے لیے باہمی تال میل پیدا کریں، تاکہ موجودہ فصلوں کو بچایا جا سکے۔