حیدرآباد میں طرز زندگی کی بیماریوں میں اضافہ۔ ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ
حالیہ دنوں میں روزگار کی تلاش میں شہر آنے والے افرادکی ایک بڑی تعداد طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن نے شہر بھر میں تقریباً 20 شہری جامع کمیونٹی ہیلت سنٹرس کے ذریعہ لوگوں کا معائنہ کیا جس کی تفصیلات حال ہی میں جاری کردہ سالانہ اربن ہیلت رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔
حیدرآباد: حالیہ دنوں میں روزگار کی تلاش میں شہر آنے والے افرادکی ایک بڑی تعداد طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن نے شہر بھر میں تقریباً 20 شہری جامع کمیونٹی ہیلت سنٹرس کے ذریعہ لوگوں کا معائنہ کیا جس کی تفصیلات حال ہی میں جاری کردہ سالانہ اربن ہیلت رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے ذرائع کے مطابق ایک سال کے دوران ان مراکز کا دورہ کرنے والے مریضوں کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگوں میں ان بیماریوں کی بنیادی وجوہات خراب معاشی صورتحال، غذائیت کی کمی، نیند کی کمی، ہائی بلڈ پریشر اور جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال یا ذیابیطس ہیں۔
اس کے علاوہ نوجوانوں میں تمباکو اور منشیات کی لت بڑھ رہی ہے جبکہ تمباکو اور گٹکا نوشی منہ کے کینسر کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک ایچ ایچ ایف کے تعاون سے 8,142 افراد کی جان بچائی جا چکی ہیں۔
یہ سروے کشن باغ، حکیم پیٹ، کالا پتھر، امان نگر، گنگا نگر، شاہین نگر، یاقوت پورہ، بنڈلہ گوڑہ، پہاڑی شریف اور جل پلی جیسے علاقوں میں کیا گیا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہر تین میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے جبکہ 10 سے 15 فیصد نوجوان خواتین میں پی سی او ایس اور دیگر نسوانی مسائل پائے گئے۔ تقریباً 35 سے 40 فیصد افرادہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس میں مبتلا ہیں جبکہ 70 فیصد بالغ افراد میں انسولین کے خلاف مزاحمت یا پری ذیابیطس کی علامات دیکھی گئیں۔
مجموعی طور پر 5,88,900 مریض ان مراکز سے رجوع ہوئے جن میں 65 فیصد خواتین اور 32 فیصد نقل مکانی کرنے والے مزدور شامل تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں غیر متوازن طرزِ زندگی، ورزش کی کمی اور سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں جو بالآخر گردوں اور دل کے امراض کا باعث بن رہی ہیں۔ طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بہتر غذا اور روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش کے ذریعہ ان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔