اسرائیلی و امریکی حملوں کے خلاف پرانا شہر حیدرآباد میں مجلس کا احتجاجی مارچ
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے خلاف حیدرآباد کے پرانا شہر میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا گیا۔
حیدرآباد: اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے خلاف حیدرآباد کے پرانا شہر میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔
یہ احتجاجی مارچ دربار حسینی سے شروع ہو کر دارالشفاء ایکس روڈ تک نکالا گیا، جس میں پارٹی کے کئی قائدین اور کارکنان شریک ہوئے۔ مارچ کے دوران مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور ایران کے خلاف حملوں کو عالمی سطح پر ناانصافی قرار دیا۔
احتجاجی مارچ میں مجلس کے ارکانِ مقننہ میر ذوالفقار علی، جعفر حسین معراج اور ریاض الحسن آفندی سمیت دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت عالمی امن کے لئے خطرہ ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
مظاہرین نے حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے۔
اس احتجاجی مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جس کے باعث پرانا شہر کے مختلف علاقوں میں کچھ دیر کے لئے ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر رہی۔ تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پولیس کی جانب سے سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے اور مارچ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔