ملاوٹ شدہ گھی کے خلاف بڑی کارروائی، تلنگانہ میں 850 کلو مشتبہ گھی ضبط
ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ بعض مینوفیکچررز مبینہ طور پر پام آئل، بناسپتی اور دیگر غیر دودھ والی چکنائی ملا کر اسے خالص گھی کے نام پر فروخت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ کئی کاروباری ادارے بغیر لائسنس یا ایف ایس ایس اے آئی (FSSAI) رجسٹریشن کے گھی تیار اور فروخت کرتے بھی پائے گئے۔
حیدرآباد: کیا آپ کے گھر میں استعمال ہونے والا گھی واقعی خالص ہے؟ تلنگانہ فوڈ سیفٹی محکمہ نے ریاست بھر میں ملاوٹ شدہ گھی کے خلاف خصوصی مہم چلاتے ہوئے 850 کلو مشتبہ گھی ضبط کر لیا، جبکہ 91 نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
فوڈ سیفٹی کمشنر ڈاکٹر سنگیتا ستیہ نارائنا کے مطابق 14 اور 15 جولائی کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف اضلاع میں خصوصی چھاپے مارے گئے، جن میں پولیس نے بھی فوڈ سیفٹی حکام کا ساتھ دیا۔
ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ بعض مینوفیکچررز مبینہ طور پر پام آئل، بناسپتی اور دیگر غیر دودھ والی چکنائی ملا کر اسے خالص گھی کے نام پر فروخت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ کئی کاروباری ادارے بغیر لائسنس یا ایف ایس ایس اے آئی (FSSAI) رجسٹریشن کے گھی تیار اور فروخت کرتے بھی پائے گئے۔
حیدرآباد کے کیور (CURE) علاقے میں 14 اداروں کی جانچ کے دوران 15 گھی کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے۔ کارروائی کے دوران تقریباً 60 کلو گھی انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دے کر تلف کر دیا گیا، جبکہ 850 کلو مشتبہ گھی ضبط کرکے لیبارٹری رپورٹ آنے تک محفوظ تحویل میں رکھا گیا ہے۔
ریاست بھر میں مجموعی طور پر 65 اداروں کا معائنہ کیا گیا اور 91 گھی کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری روانہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ اداروں کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
فوڈ سیفٹی کمشنر نے کہا کہ اگر لیبارٹری رپورٹ میں ملاوٹ کی تصدیق ہوتی ہے تو متعلقہ کمپنیوں اور کاروباری افراد کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔