مشرق وسطیٰ

امریکہ نے حملے جاری رکھے تو جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہوگی، ایران کی سخت وارننگ

ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب "جنگ بھی اور مذاکرات بھی" کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے حملے بند نہ کیے تو ایران صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ امریکی فوجی اڈے اور مفادات کسی بھی جگہ محفوظ نہیں رہیں گے۔

تہران: ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دن تک امریکی حملے جاری رہے تو جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب "جنگ بھی اور مذاکرات بھی” کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے حملے بند نہ کیے تو ایران صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ امریکی فوجی اڈے اور مفادات کسی بھی جگہ محفوظ نہیں رہیں گے۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ جنگ پورے خطے میں نہ پھیلے، لیکن امریکہ نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے تنازع کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی مزید فوجی صلاحیتیں، جن میں زمینی افواج بھی شامل ہیں، استعمال کرے گا، جس سے جنگ کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ایرانی فوجی مشیر نے کویت، اردن، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت خطے کے ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ جوابی کارروائیاں پہلے ہی انتہائی شدید رہی ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ کسی بھی زمینی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایسے بحری جہاز کو نشانہ بنایا جس پر ایرانی بحریہ کی اجازت کے بغیر گزرنے اور انتباہات کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

اس کے جواب میں ایران بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔